ملا فضل اللہ عالمی دہشتگردوں کی فہرست میں شامل

پاکستان کا موقف ہے کہ ملا فضل اللہ افغانستان کے صوبے کنٹر میں مقیم ہے

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنپاکستان کا موقف ہے کہ ملا فضل اللہ افغانستان کے صوبے کنٹر میں مقیم ہے

امریکہ نےتحریک طالبان کے سربراہ ملا فضل اللہ کو عالمی دہشتگردوں کی فہرست میں شامل کر کے ان پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

امریکی محکمۂ خارجہ کی جانب سے منگل کو جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ملا فضل اللہ کو ’خصوصی عالمی دہشت گرد‘ قرار دیا گیا ہے۔

بیان کے مطابق یہ درجہ دیے جانے کے بعد ملا فضل اللہ کے وہ تمام اثاثے جو امریکی دائرہ کار میں آتے ہیں منجمد ہو جائیں گے اور امریکی شہریوں پر ملا فضل اللہ سے کسی بھی ایسے لین دین کرنے پر پابندی ہوگی۔

پاکستانی حکومت کا موقف ہے کہ ملا فضل اللہ افغانستان کے صوبے کنٹر میں موجود ہیں، جہاں سے وہ پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور نگرانی کرتے ہیں۔ پاکستان کی حکومت متعدد بار افغانستان کی حکومت سے پاکستانی طالبان کے سربراہ ملا فضل اللہ کو گرفتار کر کے پاکستان کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر چکی ہے۔

ملا فضل اللہ کو 2013 میں حکیم اللہ محسود کی امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد تحریک طالبان پاکستان کا سربراہ چنا گیا تھا۔

امریکہ نے حکیم اللہ محسود کو بھی عالمی دہشتگرد قرار دیا تھا جس کے بعد انھیں ایک ڈرون حملے میں نشانہ بنایا گیا۔

امریکہ کی طرف سے ملا فضل اللہ کو عالمی دہشتگردوں کی فہرست میں شامل کا فیصلہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے دورۂ پاکستان کے بعد کیا گیا ہے۔

ملا فضل اللہ کی قیادت میں تحریک طالبان پاکستان نے 16 دسمبر کو پشاور کے آرمی پبلک سکول پر حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی جس میں سکول کے 132 بچوں سمیت 148 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

ملا فضل اللہ سوات میں طالبان کے دور میں بڑے پیمانے کو قتل کروانے کے بھی ذمہ دار سمجھے جاتے ہیں اور انھی کے حکم پر نوبل انعام یافتہ پاکستانی طالبہ ملالہ یوسفزئی پر قاتلانہ حملہ کیاگیا تھا۔

ملا فضل اللہ کے گروپ نے دیر میں پاکستان فوج کے میجر جنرل ثنا اللہ نیازی کی ہلاکت کی ذمہ داری بھی قبول کی تھی۔