’ملا فضل اللہ پاکستان ہی میں موجود ہیں‘

،تصویر کا ذریعہReuters
- مصنف, شجاع ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو
غیر قانونی شدت پسند تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان کا کہنا ہے کہ ’نواز حکومت نے مذاکرات کا جو مذاق اڑایا ہے، ہمارے ساتھ ایسا مذاق تو نہ مشرف نے کیا، نہ زرداری نے۔‘
اس کے ساتھ ہی تنظیم کا کہنا ہے کہ ان کے امیر ملا فضل اللہ افغانستان میں نہیں بلکہ پاکستان کے قبائلی علاقے ہی میں موجود ہیں۔
تنظیم کے مرکزی ترجمان شاہد اللہ شاہد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نواز حکومت نے تحریکِ طالبان پاکستان کے ساتھ مذاکرات کا ڈھونگ رچایا اور اس سلسلے میں وہ سنجیدہ نہیں تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فریب کا ردِ عمل تنظیم ظاہر کرے گی۔
پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ افغانستان کی حکومت سے تحریکِ طالبان پاکستان کے سربراہ ملا فضل اللہ کے خلاف کارروائی کے لیے کہا جائے گا۔ تاہم شاہد اللہ شاہد نے دعویٰ کیا ہے کہ ملا فضل اللہ پاکستان ہی کے قبائلی علاقے میں موجود ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جب ملا فضل اللہ افغانستان میں موجود تھے تب بھی وہ افغان حکومت کے زیرِ اثر نہیں تھے اور تنظیم نے آج تک کسی بھی حکومت سے کوئی مدد نہیں لی۔
یاد رہے کہ تحریکِ طالبان پاکستان اور حکومتِ پاکستان نے اس سال کے آغاز میں ملک میں امن کے قیام کے لیے مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا تھا جو کہ ناکام ہو گیا۔
اگرچہ تحریکِ طالبان نے مذاکراتی عمل کے دوران جنگ بندی کا اعلان کیا تھا تاہم حکومتی اعداد و شمار کے مطابق فروری 2014 میں مذاکراتی عمل کے آغاز سے لے کر آٹھ جون تک ملک میں دہشت گردی کے 20 بڑے واقعات ہوئے جن میں 195 افراد ہلاک ہوئے۔ ان واقعات میں کراچی کے ہوائی اڈے پر ہونے والا حملہ بھی شامل ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty
واضح رہے کہ پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان میں ’ضربِ عضب‘ آپریشن میں اب تک 376 شدت پسند ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ 19 شدت پسندوں نے ہتھیار ڈال کر خود کو حکام کے حوالے کر دیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کے علاوہ اب تک شدت پسندوں کے 16 ٹھکانے اور بم بنانے والی فیکٹریاں تباہ کر دی گئی ہیں۔ تاہم شاہد اللہ شاہد کا کہنا ہے کہ اس آپریشن میں صرف دس سے 12 مجاہدین ہلاک ہوئے ہیں۔
شاہد اللہ شاہد نے شمالی وزیرستان کے آپریشن کے حوالے سے کہا کہ اس میں ہلاک ہونے والے ’مجاہدین ہمارے بھائی ہیں تاہم وہ تحریکِ طالبان پاکستان کا حصہ نہیں تھے۔‘
شاہد اللہ شاہد نے ایک مرتبہ پھر غیر ملکی کمپنیوں کو پاکستان میں اپنی کارروائیاں بند کرنے کے لیے کہا۔ انھوں نے ان اطلاعات کی بھی مذمت کی کہ چند غیر ملکی ایئر لائینز پشاور تک اپنی پروازیں بحال کر رہی ہیں۔







