ایک پیزا بوائے اور ایک کوکا کولا میں تھا

،تصویر کا ذریعہBFM TV
فرانس میں دو دن سے جاری شدت پسند حملوں کا سلسلہ تین حملہ آوروں کی ہلاکت کے ساتھ ختم ہو گیا ہے۔
مارے جانے والوں میں وہ دو بھائی بھی شامل ہیں جن پر ’چارلی ایبڈو میگزین کے دفتر پر حملہ کرنے کا شبہہ ہے‘۔
آئیے ان کے بارے میں جانتے ہیں:
کواچی برادران

،تصویر کا ذریعہAFP
پولیس کے مطابق شریف اور سعید كواچی نے ہی پیرس میں ’چارلي ایبڈو‘ میگزین کے دفتر پر حملہ کرکے 12 افراد کو ہلاک کیا تھا۔ بعد میں انھوں نے شہر کے شمالی علاقے میں ایک عمارت میں کچھ لوگوں کو یرغمال بنایا اور پولیس کارروائی میں مارے گئے۔
32 سالہ شریف کو 2008 میں جیل ہوئی تھی اور پولیس انھیں طویل عرصے سے شدت پسند اسلامی سرگرمیوں کے لیے جانتی تھی۔
شریف کو ابو اسین کے نام سے بھی جانا جاتا تھا اور وہ اس نیٹ ورک سے منسلک تھے جو عراق میں القاعدہ کے لیے جہادی فراہم کرنے کا کام کرتا ہے۔
شریف فرانس کے مغربی شہر رینیس کے یتیم خانے میں پلے بڑھے تھے جہاں انھوں نے ایک فٹنس کوچ کے طور پر تربیت حاصل کی تھی۔
اطلاعات کے مطابق بعد میں وہ اپنے بڑے بھائی کے ساتھ رہنے لگے اور پیزا ڈلیوری بوائے کے طور پر کام کرتے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پولیس نے سنہ 2005 میں انھیں اس وقت حراست میں لیا تھا جب وہ شام جانے والے تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty
اس وقت عراق میں امریکی فوج کے خلاف جہادیوں کی بھرتی کا یہی واحد راستہ تھا۔
فرانسیسی اخبار ’لی مونڈ‘ کی رپورٹ کے مطابق شریف کو جنوری 2005 سے 2006 تک جیل میں رکھا گیا تھا جس دوران وہ پہلی بار جمال بیغال کے رابطے میں آئے۔
بیغال کو پیرس میں امریکی سفارت خانے پر بم نصب کرنے کی منصوبہ بندی کی وجہ سے 10 سال کی سزا ہوئی تھی۔
سنہ 2008 میں شریف کو شدت پسندوں کو عراق بھیجنے کے معاملے میں تین سال کی سزا ہوئی تھی لیکن ان کی 18 ماہ کی سزا منسوخ ہو گئی تھی۔
ان کے پڑوسی ایرک بیڈ انھیں ’اچھا، شائستہ، احباب پرست اور صاف ستھرا رہنے والا‘ بتاتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’سب سے اہم بات یہ تھی کہ وہ بزرگ اور لاچار لوگوں کی ہمیشہ مدد کرتا تھا۔‘
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’شریف پرسکون فطرت والے شخص تھے۔ وہ جارح یا جوشیلے بنیاد پرست نہیں تھے۔‘
فرانس کی دہشت گردی مخالف پولیس کے مطابق شریف کا نام سنہ 2010 میں ایک دیگر اسلامی بنیاد پرست سمين علی بلقاسم کو جیل سے باہر نکالنے کی منصوبہ بندی سے بھی جڑا تھا۔
اس معاملے میں ان کے بھائی 34 سالہ سعید كواچی کا نام بھی شامل تھا لیکن ثبوتوں کی عدم موجودگی میں دونوں بھائیوں کو ملزم نہیں بنایا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ میگزین کے دفتر پر حملے کے بعد سعید کا شناختی کارڈ ان کی کار میں ملا تھا۔
ایمدي كولیبلی

،تصویر کا ذریعہAFP
مشرقی پیرس کے ایک یہودی سپر مارکیٹ میں بہت سے لوگوں کو یرغمال بنا کر رکھنے اور چار لوگوں کو مارنے والے بندوق بردار کی شناخت ایمدي كولیبلي کے طور پر کی گئی ہے۔
پولیس کا خیال ہے کہ انھوں نے پیرس کے مانروز علاقے میں ایک خاتون پولیس اہلکار کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔
ایمدي کا طویل مجرمانہ پس منظر رہا ہے۔ وہ منشیات کے دھندے میں ملوث رہے اور كواچي برادران میں سے ایک کے ساتھ تھے۔
وہ پیرس کے بیرونی علاقے میں پیدا ہوئے تھے اور دس بھائی بہنوں میں سے ایک تھے۔
وہ کوکا کولا کے لیے کام کر چکے ہیں۔ رپورٹوں کے مطابق وہ بھی شریف کی طرح بیغال کے مرید تھے۔
سنہ 2013 میں انھیں اسلامی بنیاد پرست سمين علی بلقاسم کو جیل سے باہر نکالنے کی سازش کے معاملے میں پانچ سال کی سزا ہوئی تھی۔
لیکن گذشتہ سال انھیں جیل سے رہا کر دیا گیا تھا۔
ایئٹ ایمدی

،تصویر کا ذریعہAP
اس درمیان پولس اب بھی ایمدي کی اتحادی 26 سال ایئٹ ایمدی کی تلاش میں سرگرداں ہے۔
ایئٹ ایمدی پر جمعرات کو ایک خاتون پولیس اہلکار کے قتل میں ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ایک غیر مصدقہ رپورٹ کے مطابق وہ سپر مارکیٹ میں ہونے والی کارروائی کے دوران فرار ہونے میں کامیاب رہی تھیں۔







