فرانس: مشتبہ حملہ آور مارے گئے، چار یرغمالی بھی ہلاک

مشتبہ حملہ آوروں کو پکڑنے کے لیے ہزاروں سکیورٹی اہلکاروں نے بدھ کو آپریشن شروع کیا تھا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنمشتبہ حملہ آوروں کو پکڑنے کے لیے ہزاروں سکیورٹی اہلکاروں نے بدھ کو آپریشن شروع کیا تھا

پولیس نے پیرس کے شمال مشرق علاقے ڈامارٹن آں گوئل میں میگزین چارلی ایبڈو پر حملہ کرنے والے دو مبینہ حملہ آوروں کو کارروائی کر کے ہلاک اور کوشر سپر مارکیٹ کو یرغمال بنانے والے ایک شخص کو بھی ہلاک کر دیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق پولیس نے پیرس اور اس کے شمال میں دو مقامات پر دھاوا بول کر ان دونوں حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا جنھوں نے عمارت میں موجود لوگوں کو مغوی بنا لیا تھا۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق پولیس کی جانب سے کوشر سپر مارکیٹ میں کی جانے والی کارروائی میں چار یرغمالی شدید زخمی ہو گئے۔

اے پی کے مطابق اس کارروائی میں 15 یرغمالیوں کو رہا کروا لیا گیا جبکہ دو پولیس اہل کار بھی زخمی ہوئے۔

دریں اثنا فرانس کے صدر فرانسو اولاند نے خبردار کیا ہے کہ فرانس پر شدت پسندی کا خطرہ ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔

جمعے کی رات ٹی وی پر خطاب کرتے ہوئے انھوں نے لوگوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت کی۔

فرانسو اولاند نے اپنے ٹی وی خطاب میں تین مسلح افراد کو قاتل قرار دیتے ہوئے کوشر سپر مارکیٹ پر کیے جانے والے حملے کی بھی مذمت کی۔

فرانسیسی صدر نے یرغمالیوں کو چھڑانے والے سکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور بہادری کی بھی تعریف کی

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنفرانسیسی صدر نے یرغمالیوں کو چھڑانے والے سکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور بہادری کی بھی تعریف کی

فرانسیسی صدر نے یرغمالیوں کو چھڑانے والے سکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور بہادری کی بھی تعریف کی۔

دوسری جانب برطانوی وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون اور جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے کہا ہے کہ وہ فرانس کے صدر فرانسو اولاند کے ساتھ اتوار کو پیرس میں ہونے والے یکجہتی مارچ میں حصہ لیں گے۔

اس یکجتہی مارچ میں کئی یورپی ممالک کے سربراہ بھی شرکت کریں گے۔

اس سے پہلے ڈامارٹن آں گوئل کے علاقے میں واقع گودام سے دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جہاں مشہور ہفتہ وار میگزین چارلی ایبڈو پر مبینہ طور پر حملہ کرنے والے دو بھائیوں، شریف کواچی اور سید کوچی نے پناہ لے رکھی تھی۔

اس واقعے کے چند منٹ بعد پولیس نے کوشر سپر مارکیٹ میں دھاوا بول کر لوگوں کو یرغمال بنانے والے مسلح شخص کو بھی ہلاک کر دیا۔

فرانسیسی حکام کے مطابق کوشر سپر مارکیٹ میں کی جانے والی کارروائی میں چار یرغمالیوں کے علاوہ مسلح شخص بھی مارا گیا۔

اطلاعات کے مطابق سپر مارکیٹ میں لوگوں کو یرغمال بنانے والے شخص کا تعلق بھی چارلی ایبڈو پر حملے کرنے والوں کے ساتھ موجود تھا۔

پولیس نے دونوں جگہوں پر ایک ہی وقت میں آپریشن شروع کیا تھا۔

فرانس کی تاریخ کے اس سب سے ہولناک حملے نے پوری قوم کو جھنجھوڑ کے رکھ دیا ہے اور دنیا بھر سے چارلی ایبڈو حملے کے بعد سے ہمدردی کے پیغامات مسلسل موصول ہو رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

یاد رہے کہ بدھ کو میگزین کے دفتر پر حملہ کرنے والے دونوں مبینہ حملہ آور بھائی، شریف اور سیعد کواچی کو پولیس نے جمعے کی صبح ڈامارٹن آں گوئل کے علاقے میں واقع گودام میں گھر لیا گیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ گھیرا تنگ ہونے پر جب یہ دونوں فائرنگ کرتے ہوئے گودام سے باہر نکلے رہے تھے تو پولیس نے عمارت پر دھاوا بول دیا۔

اطلاعات کے مطابق پولیس نے یہ بھی بتایا ہے کہ جس حملہ آور نے کوشر سپر مارکیٹ میں کئی لوگوں کو مغوی بنا لیا تھا اس نے دھمکی دی تھی کہ اگر پولیس نے سعید اور شریف کواچی کو پکڑنے کی کوشش کی تو وہ سپر مارکیٹ کے اندر موجود لوگوں کو مار دے گا۔

اسی حملہ آور کے بارے میں یہ بھی کہا جا رہا کہ یہ وہی شخص ہے جس نے جمعرات کو ایک خاتون پولیس اہلکار کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

اس سے قبل پولیس نے پیرس کے نواحی لونگ پورٹ گاؤں کا محاصرہ کر کے مشتبہ حملہ آوروں شریف اور سعید کوچی کو ڈھونڈنے کے لیے گھر گھر تلاشی لی تھی، جبکہ داخلی راستوں کو بند کر دیا گیا تھا۔

فرانس کے وزیرِ داخلہ کے مطابق پیرس میں حملے کے بعد ملک میں حفاظتی اقدامات کو یقینی بنانے کے لیے پولیس اور فوج کے اضافی 88 ہزار اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔