سونامی کے دس سال: ہلاک شدگان کی یاد میں دعائیہ تقاریب

باندا آچے میں ہزاروں افراد شہر کی بڑی مسجد میں جمع ہوئے اور ہلاک شدگان کے لیے دعائے مغفرت کی

،تصویر کا ذریعہREUTERS

،تصویر کا کیپشنباندا آچے میں ہزاروں افراد شہر کی بڑی مسجد میں جمع ہوئے اور ہلاک شدگان کے لیے دعائے مغفرت کی

بحر ہند میں آنے والے سونامی کے دس برس کی تکمیل پر دنیا کے مختلف ممالک میں اس قدرتی آفت میں ہلاک ہونے والے دو لاکھ سے زیادہ افراد کے لیے دعائیہ تقاریب کا سلسلہ جاری ہے۔

سونامی سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک انڈونیشیا کے جزیرے سماٹرا کے قصبے باندا آچے میں مرکزی دعائیہ تقریب منعقد کی گئی جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔

دنیا میں ریکارڈ کیے گئے سب سے بڑے زلزلوں میں سے ایک دس سال پہلے انڈونیشیا کے ساحل کے قریب آیا تھا جس کی وجہ سے آنے والی سونامی بحرِ ہند کے ساحلی علاقوں میں رہنے والی پوری کی پوری آبادیوں کو بہا لے گئی تھی۔

26 دسمبر 2004 کو ریکٹر سکیل پر 9.1 شدت کے زلزلے اور اس کے بعد دیوہیکل لہروں کے ساحلی علاقوں سے ٹکرانے کی وجہ سے کم از کم دو لاکھ 28 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔

جن ممالک کو اس سونامی سے سب سے زیادہ نقصان پہنچا تھا ان میں انڈونیشیا کے علاوہ تھائی لینڈ اورسری لنکا بھی شامل ہیں اور ان ممالک میں بھی دعائیہ تقاریب کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔

سونامی سے انڈونیشیا کا صوبہ آچے سب سے زیادہ متاثر ہوا تھا اور یہاں ایک لاکھ 70 ہزار افراد کو اپنی جانوں سے ہاتھ دھونا پڑا تھا۔

،تصویر کا ذریعہEPA

سونامی میں ہلاک ہونے والوں کی یاد میں تقاریب کا سلسلہ جمعے کو سارا دن جاری رہے گا۔

انڈونیشیا کے نائب صدر یوسف کلا نے بندا آچے میں اپنے خطاب میں مقامی رضاکاروں اور دنیا کے ان ممالک کا شکریہ ادا کیا جنھوں نے بحالی کے عمل میں انڈونیشیا کی مدد کی۔

انھوں نے امدادی ممالک کے سفیروں میں اعزازات بھی تقسیم کیے۔

آچے میں ہزاروں افراد اس اجتماعی قبر پر بھی جمع ہوئے اور فاتحہ خوانی کی جہاں بہت سے ہلاک شدگان کی باقیات دفن ہیں۔

اس سے قبل جمعے کو ہی آچے کے دارالحکومت باندا آچے میں ہزاروں افراد شہر کی بڑی مسجد میں جمع ہوئے اور ہلاک شدگان کے لیے دعائے مغفرت کی۔

19ویں صدی میں تعمیر کی جانے والی یہ مسجد اس شہر کی ان چند عمارتوں میں سے ہے جو سونامی کی 30 فٹ اونچی لہروں کا سامنا کرنے میں کامیاب ہوئی تھیں۔

تھائی لینڈ میں ان جرمن، آسٹریلوی اور سوئس افراد کے لیے میموریل سروس منعقد ہوئی جو سونامی کا شکار ہوئے تھے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنتھائی لینڈ میں ان جرمن، آسٹریلوی اور سوئس افراد کے لیے میموریل سروس منعقد ہوئی جو سونامی کا شکار ہوئے تھے

مسجد کے امام اثمان اسماعیل نے اس موقعے پر کہا کہ سونامی سے سب کو ایک اہم پیغام ملا اور ’30 برس تک مسلح تنازعے کا سامنا کرنے والے آچے میں اس قدرتی آفت کے بعد سے کوئی کسی سے نہیں لڑتا۔ سب مل جل کر رہتے ہیں۔‘

سونامی کے بعد اس علاقے میں قیامِ امن کے لیے کوششیں تیز کر دی گئی تھیں جن کے نتیجے میں اگست 2005 میں حکومت اور باغیوں میں معاہدہ ہوگیا تھا۔

تھائی لینڈ میں بھی عوام نے جمعے کو دن بھر مختلف مقامات پر دعائیہ تقاریب کا اہتمام کیا ہے۔

سونامی کی وجہ سے تھائی لینڈ میں 5500 افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں ہزاروں تھائی باشندوں کے علاوہ بڑی تعداد میں غیر ملکی سیاح بھی تھے۔

جمعے کو پھانگ گا صوبے میں بان نام خیم نامی گاؤں میں عوام نے اس یادگاری دیوار پر پھول رکھے جسے ہلاک شدگان کی یاد میں تعمیر کیا گیا ہے۔

بندا آچے میں سونامی کی یاد میں بنائے گئے عجائب گھر میں اس آفت میں ہلاک ہونے والوں کے نام تحریر ہیں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنبندا آچے میں سونامی کی یاد میں بنائے گئے عجائب گھر میں اس آفت میں ہلاک ہونے والوں کے نام تحریر ہیں

اس کے علاوہ کھاؤ لاک کے ساحل پر ان جرمن، آسٹریائی اور سوئس افراد کے لیے میموریل سروس منعقد ہوئی جو سونامی کا شکار ہوئے تھے۔

سری لنکا میں ’ملکۂ سمندر‘ نامی ایکسپریس ٹرین سونامی کی یادگاری تقریبات کا مرکز ہے۔ سونامی کے نتیجے میں اٹھنے والی لہریں سری لنکا میں اس ٹرین کو بہا لے گئی تھیں۔

اس حادثے میں 1700 سے زیادہ افراد مارے گئے تھے اور یہ دنیا کا سب سے مہلک ٹرین حادثہ تھا۔

سونامی سے متاثر ہونے والے ممالک میں انڈونیشیا، تھائی لینڈ، سری لنکا، بھارت، بنگلہ دیش، برما اور مالدیپ جیسے ایشیائی ممالک کے علاوہ کینیا، صومالیہ اور تنزانیہ جیسے دوردراز افریقی ممالک بھی شامل تھے۔

خیال رہے کہ دس برس قبل آج ہی کے دن سمندر کی تہہ میں انڈونیشیا کے مقامی وقت کے مطابق صبح آٹھ بجے کے قریب آنے والے زلزلے کی وجہ اربوں ٹن پانی اچھلا اور پھر خوفناک رفتار سے ساحل کر طرف بڑھنے لگا۔

سمندری لہروں نے سینکڑوں میٹر تک خشکی میں داخل ہو کر پہاڑی علاقوں تک سے سبزہ اکھاڑ دیا، جہازوں کو تنکوں کی طرح بہایا اور کشتیوں کو درختوں پر پھینک دیا۔

بندا آچے کی مرکزی مسجد سونامی کا وار جھیلنے والی چند عمارتوں میں سے ایک تھی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنبندا آچے کی مرکزی مسجد سونامی کا وار جھیلنے والی چند عمارتوں میں سے ایک تھی

اس آفت سے ہونے والے نقصان کا تخمینہ تقریباً دس ارب ڈالر تک لگایا گیا تھا۔

لہریں کس طرح پھیلی تھیں

خیال رہے کہ بحرِہ ہند میں آنے والے زلزلے کے بعد سونامی کی لہریں انڈونیشیا سے لے کر سری لنکا اور اس سے پرے سمندر کے طول و عرض میں پھیل گئی تھیں۔

ان لہروں کی رفتار 500 میل فی گھنٹہ تھی۔

زلزلے نے سب سے لمبی فالٹ لائن کو پھاڑ ڈالا جو تقریباً 900 میل تھی۔

کیلی فورنیا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کی ٹیکٹونکس آبزرویٹری کے مطابق یہ بگاڑ زلزلے کے مرکز کے نیچے آیا تھا اور پھر فالٹ کے ساتھ شمال کی طرف دو کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے بڑھتا چلا گیا جو کہ دس منٹ تک جاری رہا۔

زمین کے پھٹنے کی لمبائی کی وجہ سے یہ لہریں میکسیکو، چلی اور قطبِ شمالی تک جا پہنچی تھیں۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا ذریعہBBC World Service