سونامی کے دس سال بعد اب تباہ شدہ علاقوں میں زندگی لوٹ آئی ہے۔
،تصویر کا کیپشنایک دہائی قبل انڈونیشیا کے پانیوں میں آج تک ریکارڈ کیے جانے والے طاقتور ترین زلزلوں میں سے ایک نے اس سونامی کو جنم دیا جو بحرِ ہند کے کنارے آباد بستیوں کو بہا لے گئی۔ اس قدرتی آفت سے دو لاکھ 25 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس واقعے میں انڈونیشیا اور تھائی لینڈ کے تباہ و برباد ہو جانے والے علاقے دس برس بعد ایک نئے روپ میں دکھائی دیتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنسونامی کی وجہ سے جہاں تھائی لینڈ کے ساحلوں پر واقع تفریحی مقامات تباہ ہوئے تھے وہیں انڈونیشیا کے آچے جیسے غریب علاقوں میں ہزاروں کشتیاں تباہ ہوئی تھیں اور زرعی زمین کو نمکین سمندری پانی نے اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔(اوپر) جنوری 2005 (نیچے) دسمبر 2014
،تصویر کا کیپشنآچے اور اس کے قریبی جزیرے نیاس میں سونامی کے نتیجے میں ایک لاکھ 70 ہزار افراد ہلاک یا لاپتہ ہوئے تھے۔ تصاویر: بندہ آچے انڈونیشیا (اوپر) جنوری 2005، (نیچے) دسمبر 2014
،تصویر کا کیپشنیہ بندہ آچے میں دس برس قبل سونامی سے تباہ ہونے والے علاقے اور آج اسی علاقے میں تعمیرِ نو کے بعد کی تصاویر ہیں۔
،تصویر کا کیپشنجنوری 2005 میں آچے کے بسار ڈسٹرکٹ کی ساحلی سڑک ملبے سے اٹی تھی اور آج اس کی جگہ ایک نئی شاہراہ تعمیر کی گئی ہے۔
،تصویر کا کیپشنسونامی سے جو ساحلی شہر متاثر ہوئے ان میں میولابوہ نامی شہر بھی شامل تھا جسے آچے میں کوٹا کے نام سے جانا جاتا ہے۔(اوپر) جنوری 2005، (نیچے) نومبر 2014
،تصویر کا کیپشنبندہ آچے میں لمپوک کے مقام پر واقع مسجد کو اگرچہ طوفانی لہروں سے نقصان پہنچا لیکن یہ اپنے مقام پر قائم رہی۔ آج دس برس بعد نہ صرف یہ اپنی پوری شان و شوکت سے موجود ہے بلکہ اس کے اردگرد کا علاقہ بھی دوبارہ آباد ہو گیا ہے۔(اوپر) دسمبر 2004، (نیچے) دسمبر 2014
،تصویر کا کیپشنتھائی لینڈ میں سونامی سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقے پھانگ نا، رنونگ، ترانگ، کرابی اور پھوکیٹ تھے۔ یہ تمام علاقے تھائی لینڈ کی سیاحتی صنعت کا مرکز ہیں۔ دس برس قبل پھوکیٹ کے پٹونگ ساحل پر واقع ہوٹل کا تیراکی کا تالاب ملبے سے بھرا ہوا تھا لیکن آج یہاں پھر سیاحوں کی چہل پہل دکھائی دیتی ہے۔ (اوپر) دسمبر 2004، (نیچے) دسمبر 2014
،تصویر کا کیپشنبیک پیکرز کی جنت کہلانے والا کو فی فی کا علاقہ بھی سونامی سے بری طرح متاثر ہوا تھا اور حالات اتنے خراب تھے کہ سونامی کے بعد زندہ بچ جانے والوں کو علاقہ چھوڑنے کو کہہ دیا گیا تھا۔(اوپر) جنوری 2005، (نیچے) دسمبر 2014
،تصویر کا کیپشنکو فی فی کی ٹون سائی کھاڑی میں واقع دکانیں، بنگلے اور ریستوران سب تباہ ہوگئے تھے لیکن دس برس بعد لگتا ہے کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہ تھا۔ (اوپر) دسمبر 2004، (نیچے) دسمبر 2014