سمندر میں تیرتے ہوئے اسلحہ خانے

بہتے ہوئے اسلحہ خانے

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنبہت سی کمپنیاں جن میں سے زیادہ تر برطانوی ہیں بین الاقوامی پانیوں میں نجی سیکیورٹی مہیا کر رہی ہیں

دیکھنے میں ایم این جی ایک عام سی کشتی لگتی ہے لیکن یہ دراصل ایک تیرتا ہوا اسلحہ خانہ ہے۔ اس طرح کی کئی کشتیاں خلیج عمان میں لنگر انداز ہیں۔ یہ جو شپنگ کنٹینر اپنے ساتھ لیے ہوئے ہے وہ دراصل اسلحے سے بھرا ہوا ہے تاکہ اسے نجی سکیورٹی کمپنیاں قزاقوں سے جہازوں کو بچانے کے لیے استعمال کر سکیں۔ لیکن یہ بھی ایک سکیورٹی رسک ہو سکتا ہے۔

2008 اور 2010 میں صومالیہ کی ساحل کے قریب سمندری قزاقوں کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ سمندری سکیورٹی کی صنعت کو بھی فروغ ملا ہے۔

بین الاقوامی بحری گشتی کشتیاں ہر وقت ان وسیع سمندروں کی مکمل حفاظت نہیں کر سکتیں جہاں قزاق حملے کرتے رہتے ہیں۔

اس لیے نجی کمپنیاں میدان میں آئیں جن میں سے اکثر برطانوی ہیں، اور جو مرچنٹ جہازوں کو مسلح گارڈز مہیا کرتی ہیں۔

لیکن نجی سکیورٹی گارڈز کو اسلحہ کس طرح مہیا کیا جائے اور اس اسلحے کو کیسے محفوظ جگہ پر رکھا جائے جس کا استعمال نہیں ہو رہا ہو؟

پہلے پہل تو زیادہ تر اسلحہ ریاستی سطح پر زمین پر بنائے گئے اسلحہ خانوں میں رکھا جاتا تھا لیکن پھر کئی ممالک جیسا کہ سری لنکا اسلحے کے اتنے بڑے ذخیرے، بکتر بند، رات کو دیکھنے کے لیے استعمال ہونے والے گوگل، اور دوسرے فوجی ساز و سامان کی اپنی سرزمین پر موجودگی سے کافی پریشان رہنے لگے۔

اس طرح تیرتے ہوئے اسلحہ خانوں کا جنم ہوا۔ نجی کمپنیوں نے کھینچنے والی کشتیاں، گشتی کشتیاں اور بارودی سرنگیں صاف کرنے والی کشتیوں کو بہتے ہوئے اسلحہ خانوں میں تبدیل کر دیا۔

بہتے ہوئے اسلحہ خانے

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنان اسلحہ خانوں میں جدید طرز کا اسلحہ سٹور کیا جاتا ہے جو ضرورت پڑنے پر جہازوں کو مہیا کیا جاتا ہے

ان میں سے اکثر بحر ہند کے کناروں پر بین الاقوامی پانیوں میں کھڑے ہیں۔

ان میں سے کچھ بحر ہند کے دونوں کناروں پر موجود ہیں جنھیں ہائی رسک ایریا کہا جاتا ہے تاکہ گارڈز آسانی سے ضرورت کے وقت اسلحہ رکھ اور اٹھا سکیں۔

نجی میری ٹائم سکیورٹی کمپنیاں معاوضہ لے کر اپنے پاس اسلحہ رکھتی ہیں تاکہ جب ضرورت پڑے مرچنٹ جہازوں کو یہ اسلحہ ٹرانسفر کیا جا سکے۔ کچھ بہتے ہوئے اسلحہ خانے کرائے پر اسلحہ بھی مہیا کرتے ہیں۔

برطانوی کمپنی ایم این جی کے ڈائریکٹر مارک گرے جن کا خلیج عمان میں تیرتا ہوا اسلحہ خانہ ہے کہتے ہیں کہ ’یہ کوئی ہلٹن نہیں ہے۔‘

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اسلحہ سٹور کرنے کے ساتھ ساتھ وہ سکیورٹی گارڈز کو کام کے بعد ہوٹل سروسز بھی مہیا کرتے ہیں۔ ہمارے پاس کیبنز میں بنک بیڈز ہیں، اور یہ اسی طرح کی سہولتیں ہیں جو انھیں ملٹری میں کام کے دوران میسر ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ دو خانسامے، تختۂ جہاز پر ایک جِم اور سب سے ضروری وائی فائی بھی شامل ہے۔‘

اس بارے میں معلومات حاصل کرنا بہت مشکل ہے کہ وہاں کتنے پانی پر تیرتے ہوئے اسلحہ خانے ہیں، ان میں کتنا اسلحہ رکھا جا سکتا ہے اور اسلحہ بالآخر کہاں جاتا ہے۔

برطانوی حکومت نے ستمبر 2014 میں کہا تھا کہ اس نے برطانیہ میں رجسٹرڈ کمپنیوں کو 31 بہتے ہوئے اسلحہ خانے استعمال کرنے کی اجازت دی ہے۔

لیکن یہ صرف وہ سہولتیں ہیں جو برطانوی کمپنیوں کو دی جاتی ہیں۔ اصل تعداد شاید اس سے کہیں زیادہ ہو۔

ان بہتے ہوئے اسلحہ خانوں کے متعلق تشویش بھی پائی جاتی ہے۔

بہتے ہوئے اسلحہ خانے

،تصویر کا ذریعہcrown

،تصویر کا کیپشنمرچنٹ جہازوں کو سب سے بڑا خطرہ بحری قزاقوں سے رہتا ہے

برطانیہ میں مقیم ریموٹ کنٹرول پراجیکٹ کی ایک رپورٹ میں اس کے متعلق ایک منظم اور فوری توجہ کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

بریڈ فورڈ یونیورسٹی کے پال راجرز نے جو کہ اس گروپ کے روح رواں ہیں کا کہنا ہے کہیہ بہتے ہوئے اسلحہ خانے کسی بین الاقوامی معاہدے اور کنٹرول کے بغیر ہی کام کر رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’اسلحہ غلط ہاتھوں میں جا سکتا ہے اور یہ ہر کسی کو معلوم ہے، کیوں کہ اسلحے، گولہ بارود اور دیگر ساز و سامان کی اکثر کوئی فہرست بنائی نہیں جاتی۔‘

بھارت نے تو اقوامِ متحدہ کی شپنگ ایجنسی ’انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن‘ (آئی ایم او) کے سامنے بھی یہ مسئلہ اٹھایا تھا

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنبھارت نے تو اقوامِ متحدہ کی شپنگ ایجنسی ’انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن‘ (آئی ایم او) کے سامنے بھی یہ مسئلہ اٹھایا تھا

کیونکہ یہ اسلحہ خانے غیر متوازن ممالک جیسا کہ صومالیہ اور یمن کے پانیوں کے قریب ہیں اس بات کا خدشہ رہتا ہے کہ قزاق یا القاعدہ سے منسلک گروہ اسلحے پر قبضہ کر سکتے ہیں، کشتیوں کو ہائی جیک کر سکتے ہیں یا انھیں تباہ کر سکتے ہیں۔

تاہم ایم این جی کے گرے کہتے ہیں کہ ان اسلحہ خانوں کی مکمل طور پر حفاظت کی جاتی ہے۔

اس طرح کے بھی واقعات ہوئے ہیں کہ ان بہتے ہوئے اسلحہ خانوں کو انڈیا اور متحدہ عرب امارات کے حکام نے قبضے میں کر لیا تھا کیونکہ یہ ان کی سمندری حدود میں زیادہ دیر تک رکے تھے۔

بھارت نے تو اقوامِ متحدہ کی شپنگ ایجنسی ’انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن‘ (آئی ایم او) کے سامنے بھی یہ مسئلہ اٹھایا تھا۔

19 اگست 2014 کو ایک دستاویز میں انڈیا نے کہا تھا کہ اسے ان غیر منظم بہتے ہوئے اسلحہ خانوں سے خطرہ ہے جن پر بہت زیادہ تعداد میں اسلحہ اور بارو موجود ہے۔