گیارہ بھارتی ملاحوں کی رہائی

صومالی قزاقوں نے ان گیارہ بھارتی ملاحوں کو رہا کر دیا ہے جنہیں گزشتہ برس اپریل میں اغواء کیا گیا تھا۔
قزاق سیشلز کے نزدیک ایم وی ریک افریکانا نامی پر سوار ہوئے تھے اور عملے کے تیئیس ارکان کو یرغمال بنا لیا تھا جن میں سے گیارہ بھارتی تھے۔
یہ واضح نہیں کہ ان افراد کی رہائی کے لیے کوئی تاوان ادا کیا گیا ہے یا نہیں۔
بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ رہائی پانے والے افراد اب ہسپانوی بحریہ کے ایک جہاز پر موجود ہیں اور انہیں بھارت واپس لانے کے انتظام کیے جا رہے ہیں۔
ہندوستان کے محکمہ جہاز رانی کے مطابق اب تک قزاقی کے مختلف واقعات میں دو سو پندرہ ہندوستانی ملاحوں کو یرغمال بنایا گیا جن میں سے ایک سو چھتیس کو رہا کیا گیا ہے جبکہ اب بھی سات مختلف بحری جہازوں پر کام کرنے والے اناسی بھارتی قزاقوں کے قبضے میں ہیں۔
ان میں سے ایم وی سوئز نامی بحری جہاز کے عملے میں شامل مزید چھ بھارتیوں کی رہائی کے لیے بات چیت بھی جاری ہے۔
اس معاملے پر بھارتی ایوان میں بھی بحث ہوئی ہے اور حزب اختلاف بھارتیہ جنتا پارٹی نے بدھ کو لوک سبھا میں ملاحوں کی رہائی کے لیے حکومت کی جانب سے بقول اس کے ٹھوس کارروائی نہ کیے جانے پر اپنی ناراضی ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت اس معاملے میں سنجیدہ نہیں ہے۔
دلی میں نامہ نگار سہیل حلیم کے مطابق حزبِ اختلاف میں لوک سبھا کی لیڈر سشما سواراج نے کہا کہ ’اگر ایک امریکی شہری اغوا ہو جاتا ہے تو امریکہ اس کی رہائی کے لیے زمین آسمان ایک کر دیتا ہے لیکن ہندوستانی حکومت سنجیدہ نہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جواب میں وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے کہا کہ ملاحوں کی رہائی ’ہماری اولین ترجیح ہے۔ ہم جو کچھ کرسکتے ہیں کر رہے ہیں۔ہم جہاز کے مالکان سے رابطےمیں ہیں اور ان لوگوں کی رہائی کے لیے انہیں کے ذریعے قزاقوں سے بات چیت کر رہے ہیں جیسا کہ عام طور پر کیا جاتا ہے۔‘
ایس ایم کرشنا نے یہ بھی کہا کہ قزاقی ایک انتہائی پیچیدہ بین الاقوامی مسئلہ ہے اور صومالی قزاقوں نے دنیا بھر سے سینکڑوں جہازوں اور ان کے عملے کے ہزاروں ارکان کو یرغمال بنایا ہے۔







