’مجھے ڈر تھا کہ کچھ ہونے والا ہے‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
پچھلے سال دسمبر میں بنگلہ دیش کا ایک بحری جہاز ایم وی جہان مونی کو صوالیہ کے سمندری قزاقوں نے اغوا کر لیا تھا۔ یہ جہاز ان سے رہائی پانے کے بعد بنگلہ دیش واپس پہنچا ہے۔
اس جہاز پر رخسانہ گلزار بھی سوار تھیں۔ اس جہاز پر موجود واحد خاتون نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے قزاقوں کی قید میں بیتے دنوں کی روداد سنائی۔
جہاز کے اغوا سے قبل میں دوپہر کے کھانے کے بعد تھوڑی دیر آرام ضرور کرتی تھی۔ لیکن چھ دسمبر کو مجھے نیند نہیں آ رہی تھی۔
اچانک فائر الارم بجنا شروع ہو گیا۔ الارم کافی دیر تک بجچتا رہا اور کسی نے بھی اس کو بند نہیں کیا۔ میں خوفزدہ ہو گئی۔ مجھے ڈر تھا کہ کچھ ہونے والا ہے۔
کافی دیر بعد میرے شوہر، جو جہاز پر چیف انجینیئر تھے، انجن روم سے آئے اور انہوں نے مجھے بتایا کہ قزاقوں نے جہاز پر حملہ کردیا تھا۔ میرے شوہر نے بتایا کہ وہ اپنی پہلی کوشش میں ناکام رہے اور وہ واپس چلے گئے۔ لیکن پھر دوبارہ فائر الارم بجنے لگا۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
میرے شوہر مجھے برج پر لے گئے۔ ہن نے دیکھا کہ چھ قزاق جن کے پاس بھاری اسلحہ تھا وہ جہاز پر چڑھے ہیں۔ ہم سب فرش پر لیٹ گئے۔ کچھ دیر بعد ایک اور کشتی آئی جس میں پندرہ سے سولہ قزاق سوار تھے اور وہ بھی جہاز پر چڑھ آئے۔
ہم نے زیادہ شام فرش پر ہی گزاری۔ تقریباً آدھی رات کو قزاقوں کا سربارہ آیا اور اس نے مجھے تکیہ اور کمبل دیا۔
وہ دسمبر کا مہینہ تھا اور شدید سردی تھی۔ ہر کسی کو سردی لگ رہی تھی اور وہ ٹھٹھر رہے تھے لیکن مجھے سردی کا احساس نہیں ہو رہا تھا کیونکہ مجھ پر جان جانے کا خوف طاری تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جہاز کے عملے میں سے جس کو بھی بیت الخلا جانے کی ضرورت پڑتی تو ان کی پہلے تلاشی لی جاتی۔ مجھی ڈر تھا کہ میرے ساتھ بھی یہی کیا جائے گا۔
قزاقوں نے میرے شوہر کو جان سے مارنے کی دو بار دھمکیاں دیں۔
جب ایک بھارتی جہاز ہمارے جہاز کی جان بڑھا تو ہم سب کو کہا گیا کہ اگر کسی نے بھی خفیہ پیغام بھیجنے کی کوشش کی تو ماردیے جاؤ گے۔ انہوں نے میرے شوہر سے کہا کہ بھارتی جہاز کے ساتھ بات کرو اور ان سے کہو کہ پیچھے ہٹ جائے۔
ایک اور موقع پر انہوں نے میرے شوہر کو مارنے کی دھمکی دی کیونکہ کسی تکنیکی وجہ سے جہاز کی رفتار سست تھی۔ قزاقوں نے میرے شوہر کی کنپٹی پر بندوق رکھی اور حکم دیا کہ جہاز کی رفتار تیز کرے۔
جہاز کے اغوا کے سات روز بعد انہوں نے مجھے ایک کیبن دیا۔ بارہ روز بعد انہوں نے ہمیں اپنے خاندان والوں سے بات کرنے کی اجازت دی۔ لیکن میں اس وقت اتنی پریشان تھی کہ میں بات بھی نہ کرسکی۔
ایک ماہ بعد میں جب بھی روئی تو قزاقوں کے سربراہ نے مجھے ایک اور موقع دیا خاندان والوں سے بات کرنے کا۔
ہم ہر روز قرآن کی تلاوت کیا کرتے تھے۔ کچھ قزاق ہمارا اس لیے خیال رکھتے تھے کہ ہم مسلمان تھے۔
کئی بار وہ کہتے تھے کہ ہم جلدی رہا ہو جائیں گے اور کئی بار وہ اندھا دھند فائرنگ کرتے تھے۔ ان کے پاس اسلحہ بہت بڑی مقدار میں تھا۔ ہم جب سنگاپور سے نکلے تھے تو ہمارے پاس تین ماہ کا راشن تھا۔
لیکن یہ راشن بہت جلد ختم ہو گیا کیونکہ قزاق بھی ہمارے ہی راشن استعمال کرتے تھے۔ جب راشن ختم ہوا تو قزاق کبھی بکرے، چاول، آلو اور دالیں لاتے تھے۔
میں نے اپنی زندگی میں کئی بار بحری جہاز کا سفر کیا ہے لیکن ایسا سفر کبھی نہیں کیا۔ میں اب بحری جہاز پر سفر نہیں کرنا چاہتی۔ میں اب آزاد مندگی بسر کر رہی ہوں۔
قزاقوں کی قید میں جو تین ماہ گزارے اس میں میں سوچتی تھی کہ میں شائد اب اپنے ملک کبھی واپس نہیں جا سکوں گی۔ اور میری لاش کو سمندر ہی میں پھینک دیا جائے گا۔
قزاق کئی بار ہمیں بتاتے کہ انہوں نے دیگر جہازوں کو کیسے اغوا کیا تھا۔
انہوں نے ہمیں صومالیہ میں چار مختلف جگہوں پر چھپایا تھا۔ ایک جگہ ہم نے دیکھا کہ دس دیگر جہاز کھڑے ہیں۔ کئی بار ہم نے ہیلی کاپٹر اور بحری جہاز دیکھے لیکن کوئی بھی ہمارے نزدیک نہیں آیا۔







