نقلی پستول سے ’مسلح‘ بچہ پولیس فائرنگ سے ہلاک

،تصویر کا ذریعہAP
امریکی ریاست اوہائیو کے شہر کلیولینڈ میں کھیل کے میدان میں نقلی بندوق لے کر آنے والے ایک 12 سالہ بچے کو پولیس نےگولی مار دی۔
پولیس کے مطابق جب بچے نے ہاتھ بلند کرنے کے احکامات نہیں مانے تو پولیس افسر نے دو گولیاں چلا کر بچے کو ہلاک کر دیا۔
ایک شخص نے پولیس کو فون پر خبر دی تھی کہ مذکورہ بچہ ہاتھ میں پستول لیے ہوئے لوگوں کو دھمکا رہا ہے تاہم فون کرنے والے نے کہا تھا کہ اسے یہ نہیں معلوم تھا کہ بچے کے ہاتھ میں موجود پستول اصلی ہے یا نقلی۔
جائے وقوعہ پر پہنچنے والے پولیس اہلکاروں میں سے ایک کی نوکری کا یہ پہلا سال ہے جبکہ دوسرے افسر کے پاس دس سال سے زیادہ کا تجربہ ہے۔
مقامی طبی معائنہ کار نے مرنے والے بچے کا نام ٹیمر رائس بتایا ہے۔
کلیولینڈ پولیس کے نائب سربراہ ایڈ ٹومبا نے کہا کہ بچے کو پتلون میں پھنسائی گئی پستول نکالنے پر دو بار گولی ماری گئی اور وہ بعدازاں ہسپتال میں جانبر نہ ہو سکا۔
ٹومبا نے بتایا کہ بچے نے نہ کسی کو کوئی دھمکی دی تھی اور نہ ہی پولیس افسران کی طرف پستول تاني تھی۔

پولیس کے مطابق بچے کے پاس نقلی ’ایئرسوفٹ‘ پستول تھی جو کہ ایک نیم خودکار پستول کی مانند دکھائی دے رہی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس پستول پر نقلی ہتھیاروں کی نشاندہی کرنے والا نارنجی کلپ بھی موجود نہیں تھا۔
اگرچہ اس لڑکے کی موجودگی کی اطلاع دینے والے شخص نے پستول کے اصلی یا نقلی ہونے سے لاعلمی ظاہر کی تھی لیکن کلیولینڈ پولیس ایسوسی ایشن کے صدر جیف فولمر کے مطابق جائے وقوعہ پر بھیجے گئے پولیس اہلکاروں کو یہ نہیں بتایا گیا تھا۔
بی بی سی کے ڈیوڈ ویلس کے مطابق اس معاملے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور دونوں پولیس افسران کو فی الحال چھٹی پر بھیج دیا گیا ہے۔
نامہ نگار کے مطابق ریاست اوہائیو میں ماضی میں نقلی بندوقوں کی فروخت پر کڑی نظر رکھنے کے مطالبات سامنے آ چکے ہیں۔







