نائجیریا:’حکومت اب بوکوحرام کے خلاف سنجیدگی دکھائے‘

جب دھماکہ ہوا تو اس وقت بچے سکول اسمبلی کے لیے جمع تھے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنجب دھماکہ ہوا تو اس وقت بچے سکول اسمبلی کے لیے جمع تھے

نائجیریا کے شمال مشرقی قبصے پوٹسکم میں واقع سکول میں خودکش بم حملے میں ہلاک ہونے والے کم از کم 47 طلبہ کے رشتہ داروں نے علاقے میں سکیورٹی کے نامناسب انتطامات کا ذمہ دار حکومت کو ٹھہراتے ہوئے اس پر سخت تنقید کی ہے۔

پیر کو سکول اسمبلی میں ایک خود کش بمبار نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا جس کے نتیجے میں سے کم از کم 47 طلبہ ہلاک ہو گئے۔

پولیس کے مطابق یہ دھماکہ لڑکوں کے سائنس اور ٹیکنیکل سکول میں ہوا۔

ہلاک ہونے والے طالبہ کے رشتہ داروں نے مطالبہ کیا کہ حکومت کو اب شدت پسند تنظیم بوکو حرام کے خلاف جنگ میں سنجیدگی دکھانا ہو گی کیونکہ معاملات ہاتھ سے نکلتے جا رہے ہیں۔

نائجیریا کے صدرگڈلک جوناتھن نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے دہشت گردی اور مزاحتمی تحریک کے خلاف جنگ جیتنے کے عزم کو دوہرایا ہے۔

پولیس نے شک ظاہر کیا ہے کہ شدت پسند تنظیم بوکو حرام اس دھماکے میں ملوث ہو سکتی ہے۔اس تنظیم نے گذشتہ پانچ سالوں کے دوران کئی سکولوں کو نشانہ بنایا ہے جس میں ہزاروں افراد مارے جا چکے ہیں۔

نائجیریا گذشتہ پانچ سال سے شدت پسندی کا شکار ہے اور اب تک ہزاروں افراد اس کا شکار ہو چکے ہیں
،تصویر کا کیپشننائجیریا گذشتہ پانچ سال سے شدت پسندی کا شکار ہے اور اب تک ہزاروں افراد اس کا شکار ہو چکے ہیں

خبر رساں ادارے اے پی نے دھماکے سے بچ جانے والے افراد کے حوالے سے بتایا ہے کہ خود کش حملہ آور نے سکول کی وردی پہن رکھی تھی۔

پوٹسکم قصبے کےایک رہائشی نے آدامو علی قاسم نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ سکول میں جا بجا خون اور اعضا بکھرے پڑے تھے۔

ایک استاد نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ جب دھماکہ ہوا تو اس وقت بچے سکول اسمبلی کے لیے جمع تھے۔

انھوں نے بتایا کہ زخمیوں کو قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

ایک بچے نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے جائے وقوع پر مسخ شدہ لاشیں دیکھیں۔ نائجیریا میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار ول راس کا کہنا ہے دھماکے کی بنیادی وجہ سکیورٹی کی کمی ہے۔

نائجیریا گذشتہ پانچ سال سے شدت پسندی کا شکار ہے اور اب تک ہزاروں افراد اس کے ہاتھوں لقمۂ اجل بن چکے ہیں، جبکہ لاکھوں لوگ بےگھر ہونے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

ایک ہفتہ قبل اسی شہر میں ہونے والے دھماکے میں کم از کم 30 افراد ہلاک ہوئے تھے جس کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم بوکو حرام نے قبول کی تھی۔

بوکوحرام نے حالیہ ہفتوں میں نائجیریا کے شمال مشرقی علاقوں میں کئی قصبوں اور دیہات پر قبضہ کیا ہے۔

سنہ 2009 میں مسلح بغاوت کے آغاز کے بعد سے نائجیریا کی حکومت بوکوحرام پر قابو پانے میں ناکام رہی ہے۔