بوکو حرام نے مزید لڑکیاں اغوا کر لیں

گذشتہ جمعے کو جنگ بندی کے اعلان کے بعد حکومت نے کہا کہ بوکو حرام کے ساتھ مزید مذاکرات اس ہفتے پڑوسی ملک چاڈ میں کیے جائیں گے

،تصویر کا ذریعہafp

،تصویر کا کیپشنگذشتہ جمعے کو جنگ بندی کے اعلان کے بعد حکومت نے کہا کہ بوکو حرام کے ساتھ مزید مذاکرات اس ہفتے پڑوسی ملک چاڈ میں کیے جائیں گے

نائجیریا کی شمال مشرقی ریاست اڈاماوا میں مقامی رہائشیوں کے مطابق مشتبہ عسکریت پسندوں نے دو دیہات سے درجنوں مزید لڑکیاں اور خواتین اغوا کر لی ہیں۔

حکام نے تاحال لڑکیوں کے اغوا کے تازہ واقعات کی تصدیق نہیں کی لیکن مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اغوا کی یہ وارداتیں حکومت کی جانب سے شدت پسند تنظیم بوکو حرام کے ساتھ جنگ بندی پر اتفاق کے اعلان کے بعد ہوئی ہیں۔

حکومت پرامید ہے کہ مذاکرات کے پس منظر میں بوکو حرام اپریل میں اغوا کی گئی 200 سے زائد لڑکیوں کو رہا کر دے گی۔ تاہم بوکو حرام نے ابھی تک حکومت کے ساتھ جنگ بندی کی تصدیق نہیں کی۔

گذشتہ جمعے کو جنگ بندی کے اعلان کے بعد حکومت نے کہا کہ بوکو حرام کے ساتھ مزید مذاکرات اس ہفتے پڑوسی ملک چاڈ میں کیے جائیں گے۔

دریں اثنا ملک کی شمالی ریاست باوچی کے ایک قصبے کے بس سٹیشن میں بم دھماکے میں پانچ افراد ہلاک ہو گئے۔ اس حملے کی تاحال کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی۔

بورنو ریاست میں ایک بورڈنگ سکول سے لڑکیوں کے اغوا کے واقعے کی عالمی سطح پر مذمت کی گئی تھی۔

بورنو بوکو حرام کا گھڑ ہے جہاں پر پڑوسی ریاستوں اڈاماوا اور یوبی سمیت پچھلے ایک سال سے ایمرجنسی نافذ ہے۔

سنیچر کو حملوں کی زد میں آنے والے واگا مانگورو اور گارتا دیہات ماڈاگالی اور میچیکا قصبوں کے قریب ہیں جو گذشتہ کئی ہفتوں سے بوکو حرام کے زیرِ قبضہ ہیں۔

علاقے میں مقامی لوگوں کے مطابق بڑی تعداد میں شدت پسندوں نے ان دیہاتوں پر حملہ کر کے خواتین اور نوجوان لڑکیوں کو گھیر لیا۔

ان علاقوں سے رابطے بڑی مشکل سے ہوتے ہیں اس لیے یہاں سے خبریں بھی دیر سے بیرونی دنیا تک پہنچتی ہیں۔

بوکوحرام کے جنگجوؤں کی طرف سے دیگر مبینہ حملے اڈاماوا اور بورنو کے رہائشیوں نے اختتامِ ہفتہ پر رپورٹ کیے۔