نائجیریا اور بوکو حرام میں ’جنگ بندی‘

نائجیریا کے سکول کی لڑکیاں
،تصویر کا کیپشنبوکو حرام کی طرف سے سکول کی لڑکیوں کو اغوا کرنے کی پوری دنیا نے مذمت کی تھی

نائجیریا کی فوج نے کہا ہے کہ اس کے اور اسلامی شدت پسند گروپ بوکو حرام کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ ہوا ہے اور بوکو حرام نے یقین دلایا ہے کہ وہ اغوا کی گئی سکول کی لڑکیوں کو چھوڑ دے گا۔

نائجیریا کے چیف ڈیفنس سٹاف ایلکس بادہ نے یہ اعلان کیا تاہم بوکو حرام کی طرف سے ایسا کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

بوکو حرام نے سنہ 2009 سے نائجیریا میں بغاوت کا اعلان کر رکھا ہے اور نائجیریا کی فوج کو اسے شکست دینے میں بہت مشکلات کا سامنا ہے۔

شدت پسند گروہ کے 200 سے زیادہ سکول کی لڑکیاں اغوا کرنے پر پوری دنیا نے اس کی مذمت کی تھی۔

لڑکیوں کو شمال مشرقی شہر چیبوک سے اغوا کیا گیا تھا۔ ان کو بازیاب کرانے میں ناکامی پر حکومت کو بہت تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

نائجیریا کے صدر کے مشیر حسن ٹکر نے ’بی بی سی فوکس آن افریقہ‘ کو بتایا کہ یہ معاہدہ ایک ماہ کے مذاکرات کے بعد ہوا ہے جس کی ثالثی چاڈ نے کی تھی۔

انھوں نے کہا کہ بوکو حرام نے جمعرات کو یکطرفہ جنگ بندی کا اعلان کیا تھا اور اب حکومت نے اس کا جواب دیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ بوکو حرام نے ’ہمیں یقین دلایا ہے کہ لڑکیاں ان کے پاس ہیں اور وہ انھیں رہا کر دیں گے۔‘