دولت اسلامیہ پر امریکہ کی عرب امارات سے معافی

،تصویر کا ذریعہAP
امریکہ کے نائب صدر جو بائیڈن نے متحدہ عرب امارات سے اپنے اس بیان پر معذرت کی ہے کہ خلیجی ریاست نے شام میں شدت پسند گروہ دولتِ اسلامیہ کو ہوا دی تھی۔
وائیٹ ہاؤس کے ترجمان نے تصدیق کی کہ اس معاملے پر ترکی سے معذرت کرنے کے ایک دن بعد امریکی نائب صدر نے متحدہ عرب امارات سے بھی معافی مانگ لی ہے۔
اس امریکی وضاحت سے قبل متحدہ عرب امارات کے اہلکاروں نے جو بائیڈن کی ہارورڈ یونیورسٹی کے طلبا سے گفتگو کی مذمت کی تھی جو انھوں نے گزشتہ ہفتے کی تھی۔
یاد رہے کہ متحدہ عرب امارات ان کئی ریاستوں میں شامل ہے جو شام اور عراق میں لڑنے والے جہادیوں کے خلاف امریکی قیادت میں قائم ہونے والے اتحاد میں شامل ہے۔ اتحادی فوجیں گزشتہ کئی دنوں سے دولت اسلامیہ کے ٹھکانوں پر بمباری کر رہی ہیں۔
امریکی نائب صدر نے جمعرات کو طلبا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ شام کے صدر بشار الاسد کی فوجوں کے خلاف برسر پیکار دولت اسلامیہ کے سنّی جنگجوؤں کو ’ترکی، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب نے اربوں ڈالر اور ہزار ہا ٹن اسلحہ‘ فراہم کیا تھا۔
متحدہ عرب امارات کی جانب سے ’باقاعدہ وضاحت‘ کی درخواست کے بعد جو بائیڈن نے اتوار کو ولی عہد پرنس محمد بن زید النہیان کو اپنی جانب سے معذرت کے لیے ٹیلیفون کیا۔
عرب امارات کے سرکاری خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ وزیر خارجہ انور محمد غرغاش نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ امریکی نائب صدر کا بیان ’حیران کن ہے کیونکہ انھوں نے انتہاپسندی اور دہشت گردی کے خلاف متحدہ عرب امارات کی جنگ کو بالکل نظر انداز کر دیا۔‘
ٹیلیفون پر اپنی گفتگو میں جو بائیڈن کا کہنا تھا کہ طلبا سے بات کرتے ہوئے انھوں نے ’ شام میں جاری تنازعے کے ابتدائی مراحل کے بارے میں جو کچھ کہا تھا اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ متحدہ امارات نے شام میں القاعدہ یا کسی دوسرے انتہا پسند گروہ کی معاونت اور باقاعدہ مدد کی تھی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گزشتہ دو دنوں میں یہ دوسرا موقع ہے کہ امریکی نائب صدر نے امریکہ کی کسی اتحادی ریاست سے اپنے بیان پر معذرت کی ہے۔ اس سے قبل سنیچر کو انھوں نے ترکی کے صدر رجب طیب اردگان سے بات کی جنھوں نے جو بائیڈن کے بیان پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ’مسٹر بائیڈن اس قسم کی زبان استعمال کریں گے تو میں یہی سمجھوں گا کہ وہ میرے لیے گئے زمانوں کے آدمی ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہAP
واشنگٹن سے بی بی سی کے نامہ نگار ٹام ایسلمونٹ کہتے ہیں کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ جب جو بائیڈن نے کسی معاملے پر اپنی ذاتی سوچ کا اظہار کیا ہے بلکہ ماضی میں بھی کئی مرتبہ وہ بڑی تیزی سے اپنے الفاظ واپس لے چکے ہیں۔
نامہ نگار کا مزید کہنا ہے کہ امریکی نائب صدر کے بیان سے ترکی یا متحدہ عرب امارات کے ساتھ امریکہ کی شراکت داری پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، لیکن اتنا ضرور ہے کہ جو بائیڈن نے ایک دُکھتی رگ کو چھیڑا ہے۔







