ناروے معمر افراد کے لیے بہترین ملک

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
دنیا میں معمر افراد کے بارے میں سالانہ بنیادوں پر شائع ہونے والے ایک عالمی اشاریے کے مطابق دنیا میں 60 برس سے زیادہ عمر کے افراد کے لیے بہترین ملک ناروے اور بدترین افغانستان ہے۔
یہ انڈیکس یا اشاریہ معمر افراد کے عالمی دن کے موقع پر بدھ کو جاری کیا گیا ہے۔
گلوبل ایچ واچ انڈیکس 2014 میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سنہ 2050 تک مشرقی یورپ کے قریباً تمام ممالک کی 30 فیصد آبادی معمر ہوگی۔
بی بی سی کے نامہ نگار مائیک وولرج کے مطابق یہ انڈیکس ضعیف افراد کے معاشی اور معاشرتی حالات کی بنیاد پر تیار کیا جاتا ہے۔
بزرگوں کے لیے بہترین ملک کے طور پر ناروے نے اپنے ہمسایہ ملک سویڈن کی جگہ لی ہے جو اس سال دوسرے نمبر پر رہا ہے۔
تیسرے نمبر پر سوئٹزرلینڈ، چوتھے پر کینیڈا اور پانچویں پر جرمنی ہے۔
اس فہرست میں شامل دس بہترین ممالک میں سے چھ مغربی یورپ، دو شمالی امریکہ اور ایک ایک ایشیا اور آسٹریلیا کے براعظموں میں واقع ہیں۔
اس اشاریے میں کل 96 ممالک کو آمدن کے تحفظ، صحتِ عامہ، صلاحیت و قابلیت اور معاشرتی کردار کی بنیاد پر جانچا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس برس بھی بزرگ افراد کے لیے بدترین ملک ایک مرتبہ پھر افغانستان کو قرار دیا گیا ہے جبکہ پاکستان اس سلسلے میں چھٹا بدترین ملک ہے۔

،تصویر کا ذریعہNIRAJ SINHA
انڈیکس میں دنیا بھر خصوصاً مشرقی یورپ میں معمر افراد کی تعداد میں اضافے کی نشاندہی کی گئی ہے اور اس کی ایک وجہ بانجھ پن میں اضافے کو قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رواں صدی کے وسط تک چین میں اندازاً 45 کروڑ، بھارت میں 29 کروڑ افراد اور امریکہ میں ایک تہائی آبادی کی عمر 60 برس سے زیادہ ہوگی۔
یہ انڈیکس تیار کرنے والی کمپنی ہیلپ ایج انٹرنیشنل کے مطابق بزرگ افراد کی تعداد میں اضافے کی وجہ سے عالمی حکومتوں کو اپنی معمر آبادی کے بارے میں اندازِ فکر تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کسی ملک کی اقتصادی ترقی اس کی معمر آبادی کی خوشحالی کی ضامن نہیں اور ایسے افراد کو عمر کے اس حصے میں بہتر زندگی گزارنے کا موقع فراہم کرنے میں ’معاشرتی پینشن‘ سکیمیں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
ادارے کے مطابق ایسی پینشن سکیموں میں عوام کو حصہ نہیں بٹانا پڑتا بلکہ اخراجات ٹیکسوں سے حاصل شدہ رقم سے پورے کی جاتے ہیں۔
ہیلپ ایج انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ ایسی سکیمیں دنیا کے کئی ممالک میں جاری ہیں اور یہ معاشرے کے غریب طبقے سے تعلق رکھنے والے معمر افراد کے لیے بنیادی آمدن فراہم کرنے کا اہم ترین ذریعہ بن سکتی ہیں۔
رپورٹ میں میکسیکو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہاں آمدن کے تحفظ کی پالیسیوں نے اسے اس انڈیکس میں گذشتہ برس کے مقابلے میں 26 درجے اوپر 30ویں پوزیشن پر لا کھڑا کیا ہے۔







