’یہودی مخالف جذبات کو روکنا ہر جرمن شہری کا فرض‘

،تصویر کا ذریعہAFP
جرمنی کی چانسلر اینگلا مرکل نے کہا ہے کہ یہودی مخالف جذبات کو روکنا ہر جرمن شہری کا فرض ہے۔
اینگلا مرکل نے جرمن یہودیوں پر حملوں میں اضافے کے پیشِ نظر یہودی مخالف جذبات کو کم کرنے کے لیے منعقدہ ایک ریلی سے خطاب کیا۔
برلِن میں یہ ریلی دوسری جنگِ عظیم کے 75 سال بعد منعقد کی گئی جس میں نازی جرمنوں نے تقریباً 60 لاکھ یہودیوں کو ہلاک کیا تھا۔
چانسلر اینگلا مرکل نے کہا ہے کہ یہودی پر حملوں میں اضافے کے تناظر میں جرمنی اور باقی دنیا کے لیے’برداشت‘ کا پیغام ہے۔
انھوں نے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ جرمنی میں آباد ایک لاکھ یہودی ملک کا قومی سرمایہ ہیں۔
’یہودی دوست، ہمسایے اور ساتھی جرمنی کو اپنا گھر سمجھیں۔‘ اینگلا مرکل نے عہد کیا کہ وہ یہودی مخالف جذبات کو ختم کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گی۔
حال ہی میں غزہ میں اسرائیلی حملوں کے بعد سے جرمنی میں یہودی مخالف جذبات میں شدت آئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAFP
اینگلا مرکل نے اپنی ہفتہ وار نشری تقریر میں کہا تھا کہ یہودی مخالِف جذبات میں اضافے سے نمٹنے کے لیے انھیں بہت محنت کرنی ہوگی۔
ان کا کہنا تھا ’موجودہ حالات میں جرمنی میں یہودیوں کا ایک بھی ایسا ادارہ نہیں جسے پولیس کے تحفظ کی ضرورت نہ ہو اور یہ میرے لیے بہت تشویش کی بات ہے‘۔
جولائی میں جب غزہ پر اسرائیل کی شدید بمباری جاری تھی توجرمنی کے یہودی فرقے نے فلسطینیوں کے حق میں ہونے والی ریلیوں میں یہودیوں کے خلاف شدید اظہارِ نفرت کی مذمت کی تھی۔
بتایا جاتا ہے کہ ان ریلیوں میں لوگوں نے نعرے لگائے تھے کہ ’صیہونی فاشسٹ ہیں اور بچوں اور معصوم شہریوں کو ہلاک کرتے ہیں‘ اور یہ بھی نعرے لگائے گئے کہ ’یہودیوں کو گیس چیمبر میں ڈال دیا جانا چاہیے‘۔
گذشتہ ہفتے ایک مقامی اخبار کی عمارت پر یہودی مخالِف نعرے لکھے گئے تھے۔







