کرو‌ڑوں روپے کی فون کال

سیاست داں بوسباخ مشرقی جرمنی سے متعلق ایک سوال کا جواب دینے میں ناکام رہے

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنسیاست داں بوسباخ مشرقی جرمنی سے متعلق ایک سوال کا جواب دینے میں ناکام رہے

جرمنی کی چانسلر انگیلا میرکل کے ایک سیاسی اتحادی نے ایک ٹی وی شو کے دوران انھیں اس امید پر فون کیا کہ شاید وہ ان کا فون اٹھا لیں۔ لیکن ان کی تمام کوششیں ناکام رہیں اور وہ لاکھوں یورو جیتنے میں ناکام رہے۔

انگیلا میرکل کے سیاسی اتحادی وولف گينگ بوسباخ نے شو کے دوران انھیں دو بار فون کیا لیکن ہر بار ان کا فون میرکل کے وائس میل پر چلا گیا۔

میرکل جرمنی کی سربراہ ہونے کے ساتھ یورپ کے سرکردہ رہنماؤں میں شمار ہوتی ہیں۔

واضح رہے کہ وولف گینگ معروف ٹی وی شو ’ہو وانٹس ٹو بی اے ملینیئر‘ یعنی کون بنے گا کروڑ پتی کے سلیبریٹی شو میں مہمان کے طور پر شریک ہوئے تھے۔

انگیلا میرکل کے فون نہ اٹھانے کی وجہ سے انھوں نے کھیل ادھورا چھوڑ دیا کیونکہ انھیں اس سوال کا جواب نہیں معلوم تھا جو انھیں مزید رقم دلا سکتا تھا۔

البتہ انھوں نے اس وقت تک سوا لاکھ یورو جیت رکھا تھا۔ اس کھیل میں شریک ہونے والوں کو کھیل کے ضابطوں کے مطابق کئی سہولتیں دی جاتی ہیں جن میں ’فون اے فرینڈ‘ بھی ایک ہے۔ اس کے ذریعے اگر سوال کا جواب دینے والے کو جواب نہیں آتا تو وہ فون کر کے اپنے کسی دوست سے اس کا جواب پوچھ سکتا ہے۔ ایسے ہی ایک مقام پر بوسباخ نے جرمنی کی سب سے اہم شخصیت کو فون کیا تھا۔

ان سے مشرقی جرمنی کی ایک واشنگ مشین کے بارے میں سوال کیا گیا تھا اور چونکہ انگیلا میرکل سابق کمیونسٹ ملک مشرقی جرمنی میں پلی بڑھی تھیں اس لیے بوسباخ کو گمان تھا کہ انھیں اس کا جواب معلوم ہوگا۔

گذشتہ دنوں جرمنی کی چانسلر نے امریکہ کی جانب سے اپنے فون کی نگرانی کیے جانے پر سخت ناراضی کا اظہار کیا تھا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنگذشتہ دنوں جرمنی کی چانسلر نے امریکہ کی جانب سے اپنے فون کی نگرانی کیے جانے پر سخت ناراضی کا اظہار کیا تھا

بوسباخ میرکل کی اتحادی قدامت پرست پارٹی سی ڈی یو کے رکن ہیں۔ ان سے پوچھا گیا تھا کہ ’مشرقی جرمنی کی ڈبلیو ایم 66 واشنگ مشین لیجنڈری اہمیت کی حامل کیوں ہے؟‘

اس کا جواب یہ تھا کہ کئی لوگ اس کا استعمال پھلوں کا شوربہ بنانے کے لیے بھی کرتے تھے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا وہ اس کے لیے اپنے کسی دوست سے مدد لیں گے تو انھوں نے اپنے ملک کی سربراہ یعنی چانسلر کا نام لیا۔ انھوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ ’اس لیے انھیں فون کر رہے ہیں کیونکہ وہ ہمیشہ مجھ سے ملنا اور میری آواز سننا پسند کرتی ہیں۔‘

اگر انگیلا میرکل فون اٹھا لیتیں اور صحیح جواب بتا دیتیں تو بوسباخ کو پانچ لاکھ یورو کی انعامی رقم مل جاتی جسے وہ کسی اچھے کام میں خرچ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔

شو کے خاتمے پر انھیں میرکل کی جانب سے ایک ٹیکسٹ پیغام آیا جس میں لکھا تھا: ’یہ جو کچھ بھی تھا اس کے لیے اے ایم (انگیلا میرکل کا مخفف) کی جانب سے پرجوش تہنیت۔‘

واضح رہے کہ بوسباخ گذشتہ 20 برسوں سے رکن پارلیمان ہیں اور فی الحال وہ میرکل کی سی ڈی یو/ سی ایس یو پارلیمانی گروپ کے صدر ہیں۔

انھیں جرمنی کی داخلہ پالیسی اور قانونی امور میں مہارت حاصل ہے۔ انھوں نے سنہ 1972 میں سی ڈی یو میں شمولیت اختیار کی تھی۔

یہ شو کمرشل ٹی وی چینل آرٹی ایل پر پیش کیا گیا۔