پہلی جنگِ عظیم کی برسی کے موقع پر دنیا بھر سے لی گئی تصاویر
،تصویر کا کیپشنچار سال جاری رہنے والی پہلی جنگِ عظیم میں 72 ملکوں نے شرکت کی اور اس میں 90 لاکھ سے زیادہ فوجی ہلاک ہوئے۔
،تصویر کا کیپشنفرانس اور جرمنی کے صدور نے برسی کے موقع پر ایک دوسرے سے ملاقات کی اور ایک یادگار کی بنیاد رکھی۔
،تصویر کا کیپشناس جنگ میں برطانیہ سے تعلق رکھنے والے ایک فوجی کی عمر 12 سال تھی جو کہ سب سے کم عمر فوجی تھا۔
،تصویر کا کیپشنبیلجیئم کے بادشاہ نے بھی ایک یادگاری تقریب میں شرکت کی اور ہلاک ہونے والوں کو خراج ِ تحسین پیش کیا۔
،تصویر کا کیپشناس جنگ میں کچھ دھماکوں کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ فرانس میں ہونے والے دھماکے لندن میں سنے گئے۔
،تصویر کا کیپشنپہلی جنگِ عظیم کے اختتام پر برطانیہ دیوالیہ ہونے والا تھا۔اس کی وجہ جنگ میں آنے والے اخراجات تھے جیسے کہ ستمبر 1918 میں ایک دن 24 گھنٹے کے دوران چلنے والی گولیوں کی لاگت تب چار ملین پاؤنڈ آئی۔
،تصویر کا کیپشنبیلاروس میں بھی لوگوں نے مرنے والے فوجیوں کی یاد میں جلوس نکالا۔
،تصویر کا کیپشنروس میں بھی آج کے دن تقاریب ہوئیں۔ 1914 میں روس، جرمنی اور آسٹریا کے درمیان شروع ہونے والے تنازعے نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
،تصویر کا کیپشنبرطانیہ نے 100 سالہ برسی کے موقع پر 20 پاؤنڈ کا ایک یادگاری سکہ جاری کیا ہے۔
،تصویر کا کیپشنجرمنی میں ویئلی آرمنڈ قبرستان کے گرد تقریباً 30000 افراد مارے گئے تھے۔ اس قبرستان میں 12,000 ایسے فوجیوں کی قبریں ہیں جن کی شناخت نہیں ہو سکی۔
،تصویر کا کیپشنپہلی جنگِ عظیم کے بعد برطانیہ کی کالونیوں میں علیحدگی کی تحریکیں شروع ہوئیں۔