ترکی میں دو سروں والا سانپ

،تصویر کا ذریعہhurriyet daily news
اطلاعات کے مطابق شمال مشرقی ترکی میں ایک کسان کو انتہائی نایاب دو سروں والا سانپ ملا ہے۔
ترکی کے اخبار ’ریڈیکل‘ نے خبر دی ہے کہ اس کسان کو بحیرۂ اسود کے ساحل پر واقع گرہ سون صوبے میں یہ سانپ ملا، جسے اب انطالیہ کے ایک سانپ گھر میں رکھا گیا ہے۔
اوزگر ایرلیدی کو اس سانپ کی نگہداشت کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ اس سانپ کو اس کی جسامت اور ہیت کی وجہ سے مسلسل دیکھ بھال کی ضرورت ہے: ’اس سانپ کے دو سر ہیں، اس لیے اس کی گردن عام سانپوں کے مقابلے پر بہت پتلی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’سانپ اپنے شکار کو پہلے نگلتے ہیں پھر اسے ہضم کرتے ہیں۔ اگر اس سانپ کو کھانے کے لیے کوئی بڑی چیز دی جائے تو وہ اس کی گردن میں پھنس جائے گی۔ اس لیے ہم اسے چھوٹی چھوٹی چیزیں دیتے ہیں۔‘
یہ سانپ پتلے جسم والے تیز رفتار سانپوں کی کولوبر نسل سے تعلق رکھتا ہے جنھیں عام طور پر ’ریسر‘ کہا جاتا ہے۔
انطالیہ کے سانپ گھر کے جنید الپگوون کہتے ہیں کہ دو سروں والے سانپ بہت نایاب ہیں اور ان کا بچنا بہت مشکل ہوتا ہے: ’دو سر ہونا بہت نقصان دہ ہے، کیونکہ ایک تو اس کے لیے حملے سے بچنا مشکل ہوتا ہے اور دوسرے یہ کہ شکاری جانور اس کی جانب زیادہ متوجہ ہوتے ہیں۔‘
ایک اور اخبار حریت ڈیلی نے الپگوون کے حوالے سے خبر دی ہے کہ اس سانپ کی عمر دو ماہ ہے اور کہتے ہیں کہ یہ چند مہینوں میں بڑھ کر آٹھ انچ ہو جائے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گذشتہ ماہ اسی اخبار نے دو سروں والی ایک ڈولفن کے ملنے کی خبر دی تھی، جو مغربی ترکی کے ایک ساحل پر پائی گئی تھی۔







