دولتِ اسلامیہ سے سٹیون سٹلف کی ماں کی اپیل

شرلی سٹلف نے اپنے بیٹے کو ایک ایسا صحافی بتایا ہے جو مشرق وسطی میں مسلمانوں پر ہونے والے جبر کی رپورٹنگ کرنے گئے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنشرلی سٹلف نے اپنے بیٹے کو ایک ایسا صحافی بتایا ہے جو مشرق وسطی میں مسلمانوں پر ہونے والے جبر کی رپورٹنگ کرنے گئے

دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں کے زیرِ حراست امریکی صحافی سٹیون سٹلف کی ماں نے ان کی رہائی کی اپیل کی ہے۔

شرلی سٹلف نے اپنی ویڈیو اپیل براہ راست دولتِ اسلامیہ کے رہنما ابو بکر القاعدہ بغدادی سے کی ہے۔

سٹیون سٹلف کو اس ویڈیو کے آخر میں دکھایا گیا ہے جس میں امریکی صحافی جیمز فولی کا قتل دکھایا گیا تھا۔

اس ویڈیو میں ایک شدت پسند کہہ رہا ہے کہ سٹلف کی زندگی امریکی صدر باراک اوباما کے اگلے قدم پر منحصر ہوگی۔

امریکہ نے حال ہی میں عراق میں دولتِ اسلامیہ کے کئی ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے ہیں۔

ویڈیو پیغام میں شرلی سٹلف نے اپنے بیٹے کو ایک ایسا صحافی بتایا ہے جو مشرق وسطی میں مسلمانوں پر ہونے والے جبر کی رپورٹنگ کرنے گئے۔

گذشتہ ہفتے سامنے آنے والی ویڈیو میں سٹیون سٹلف کو آخر میں دکھایا گیا تھا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنگذشتہ ہفتے سامنے آنے والی ویڈیو میں سٹیون سٹلف کو آخر میں دکھایا گیا تھا

اپنے پیغام میں وہ کہتی ہیں، ’سٹیون امریکی حکومت کی کارروائیوں پر اثر انداز نہیں ہوسکتے۔ مجھے لگتا ہے کہ آپ یعنی خلیفہ اسے بخش سکتے ہیں۔ میں آپ سے دخواست کرتی ہوں کہ میرے بچے کو رہا کریں۔‘

دولستِ اسلامیہ کے شدت پسندوں کی جانب سے گذشتہ ہفتے سامنے آنے والی ویڈیو میں سٹیون سٹلف کو آخر میں دکھایا گیا تھا۔

ویڈیو کے آخر میں شدت پسند سٹلف کا کالر پکڑ کر کہتا ہے، ’اوباما، اس امریکی شہری کی زندگی آپ کے اگلے قدم پر منحصر ہے۔‘