اوباما نے شام کی فضائی نگرانی کا حکم دے دیا

،تصویر کا ذریعہReuters
ایک امریکی دفاعی عہدے دار نے واشنگٹن میں بی بی سی کے نمائندے برجیش اپادھیائے کو بتایا ہے کہ امریکی فوج کو شام کے اوپر نگرانی کی پروازوں کا حکم دے دیا گیا ہے۔
خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ کے مطابق اوباما انتظامیہ کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا ہے کہ صدر براک اوباما نے عسکریت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے مقصد سے شام کی فضائی نگرانی کا حکم دے دیا ہے۔
اس فیصلے سے شام کے اندر دولتِ اسلامیہ کے اہداف پر امریکی حملوں کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ صدر اوباما نے فی الحال شام کے اندر فوجی کارروائی کا فیصلہ نہیں کیا۔
تجزیہ نگاروں کے مطابق امریکی حکومت کا مخمصہ یہ ہے کہ شامی صدر بشار الاسد کو تقویت دیے بغیر سنی عسکریت پسندوں کو کس طرح کمزور کیا جائے۔
امریکہ پہلے ہی عراق میں دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانوں پر حملے کر رہا ہے۔ گذشتہ ہفتے اس تنظیم نے اعلان کیا تھا کہ اس نے ایک امریکی صحافی کو قتل کیا ہے اور مزید امریکی مغویوں کو ہلاک کرنے کی دھمکی دی تھی۔
اس سے قبل پیر کے روز شام کے وزیرِ خارجہ وليد معلم نے شام اور عراق میں سرگرم دولتِ اسلامیہ کے خلاف لڑائی میں امریکہ کو مدد کی پیشکش کی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہReuters
انھوں نے کہا تھا کہ شام شدت پسندوں کے خلاف جنگ میں علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر تعاون کرنے کے لیے تیار ہے، لیکن ساتھ ہی خبردار کیا تھا کہ امریکہ شام کی حدود میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف کی جانے والی کسی بھی فضائی کارروائی شروع کرنے سے پہلے شامی حکومت سے تعاون کرے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ شامی حکومت سے تعاون کے بغیر کی جانے والی کوئی بھی کارروائی جارحیت تصور کی جائے گی۔
گذشتہ ہفتے امریکی صحافی جیمز فولی کے قتل کی ویڈیو جاری ہونے کے بعد سے امریکی افواج نےموصل کے ڈیم کے قریب 14 مزید فضائی حملے کیے ہیں۔ ان حملوں میں امریکی حکام کے مطابق دولت اسلامیہ سے تعلق رکھنے والے نشانوں اور گاڑیوں کو کامیابی سے تباہ کیا گیا۔
براک اوباما نے جیمز فولی کے قتل کے بارے میں کہا تھا کہ یہ ’تشدد کا ایک ایسا واقعہ ہے جس نے پوری دنیا کے ضمیر کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔‘







