شام کی کم عمر دلھنیں

کئی لڑکیاں جو ابھی 13 سال کی بھی نہیں ہوئیں ان کی غربت کی وجہ سے شادی کروائی جا رہی ہے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنکئی لڑکیاں جو ابھی 13 سال کی بھی نہیں ہوئیں ان کی غربت کی وجہ سے شادی کروائی جا رہی ہے

اردن میں پناہ گزینوں کا ایک کیمپ ’الزعتري‘ ہے جہاں اب شام میں جاری بحران سے بچنے والے پناہ گزین رہتے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی ایک حالیہ رپوٹ کے مطابق اس کیمپ میں غربت کی وجہ سے اکثر خاندانوں کو مجبوراً اپنی بیٹیوں کی بڑی عمر کےمردوں سے شادی کرانی پڑ رہی ہے اور علاقے میں اب نو عمر لڑکیوں کی شادی کروانے کا باقاعدہ کاروبار بنتا ہوا نظر آتا ہے۔

تاہم کچھ خاندان اپنی بیٹیوں کی شادی رسم و روایت کی بنا پر کرتے ہیں اور کچھ اپنی بیٹیوں کے تحفظ کے لیے شادی کروانا ضروری سمجھتے ہیں لیکن اقوامِ متحدہ کے مطابق اکثر خاندانوں میں اس کی وجہ غربت ہی ہے۔

بچوں کی فلاح و بہبود سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق اردن میں پناہ گزینوں کی ایک تہائی یعنی 32 فیصد شادیاں 18 سال سے کم عمر کی لڑکیوں کی ہوتی ہیں۔

تاہم یہ اعداد و شمار صرف رجسٹر ہونے والی شادیوں کے ہیں اس لیے ممکن ہے کہ اصل تعداد اس سے زیادہ ہو۔ شام میں ہونے والے بحران سے قبل ملک میں نوعمر لڑکیوں کی شادی کی شرح 13 فیصد تھی۔

یونیسف کی رہنما مشیل سرودائی کا کہنا ہے کہ ’جب تک شامی بحران جاری رہےگا ایسے کیسوں میں بھی اضافہ ہوتا رہےگا۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ان کیسوں میں سے اکثر بچوں کے ساتھ زبردستی کی جاتی ہے۔ الزعتري کیمپ میں اکثر دلھنوں کی عمر 12 سے کم ہے۔‘

شامی پناہ گزینوں اور مقامی امداد دینے والے کارکنوں کے مطابق کیمپ کے قریب مفرق شہر میں نو عمر لڑکیوں کی شادی کروانے کا کاروبار جاری ہے۔

مفرق شہر میں نوعمر لڑکیوں کی شادی کے کاروبار میں ملوث خلیج سے تعلق رکھنے والے شامی مرد 14 یا 15 سالہ لڑکیوں کو خریدنے آتے ہیں
،تصویر کا کیپشنمفرق شہر میں نوعمر لڑکیوں کی شادی کے کاروبار میں ملوث خلیج سے تعلق رکھنے والے شامی مرد 14 یا 15 سالہ لڑکیوں کو خریدنے آتے ہیں

اس کاروبار میں شامی مرد اور دلال شامل ہیں جن کا تعلق زیادہ تر خلیج سے ہے۔ یہ خود کو عطیہ کنندگان کے طور پر پیش کرتے ہیں لیکن حقیقت میں دلھنوں کی خریداری میں ملوث ہوتے ہیں۔ یہ مشکل حالات کا شکار پناہ گزین خاندانوں کو نشانہ بناتے ہیں۔

مقامی ذرائع کے مطابق ایک دلھن کی قیمت 28 سو ڈالر سے 14 ہزار تک ہو سکتی ہے۔

پناہ گزینوں اور چار بچوں کی ماں امل کہتی ہیں کہ ’خلیج سے آنے والے ان مردوں کو پتہ ہوتا ہے کہ کن خاندانوں کو پیسوں کی ضرورت ہے۔ یہ خاندان کو پیسوں کی پیشکش کرتے ہیں اور ان کا پہلا سوال یہی ہوتا ہے، کیا آپ کی بیٹیاں ہیں؟ ان کو 14 یا 15 سال کی کم عمر کی لڑکیاں خاص طور پر پسند ہیں۔‘

کئی لڑکیوں کے لیے ایسی شادی کے پیغام کو مسترد کرنے کی گنجائش نہیں ہوتی۔