شامی پناہ گزینوں کے لیے طبی سہولیات کا بحران

،تصویر کا ذریعہReuters
انسانی حقوق کے عالمی ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ امداد میں کمی کے سبب لبنان میں موجود شامی پناہ گزینوں کو ضروری طبی امداد تک رسائی مشکل ہو گئی ہے۔
ایک تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بہت سے پناہ گزین شام واپس جا رہے ہیں تاکہ انھیں جس علاج کی ضرورت ہے وہ انہیں میّسر آ سکے۔
واضح رہے کہ ملک میں جاری جنگ سے بچنے کے لیے 10 لاکھ سے زیادہ افراد ملک چھوڑ کر پڑوسی ملک لبنان چلے گئے ہیں۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ابھی 27 لاکھ رجسٹرڈ شامی پناہ گزین ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ان میں سے بہت سے پناہ گزینوں کو ترکی، اردن، عراق اور مصر میں پناہ ملی ہے تاہم سب سے زیادہ بوجھ لبنان پر ہے۔
مارچ میں لبنان کے وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ اس بحران سے ان کے ’ملک کے وجود کو خطرہ لاحق ہے۔‘
اقوام متحدہ نے شام کے پناہ گزینوں کے لیے سنہ 2014 کے لیے بین الاقوامی ڈونرز سے 4.2 ارب ڈالر کی امداد طلب کی تھی لیکن ابھی تک انھیں اس میں سے صرف 24 فی صد امداد ہی مل سکی ہے۔
ایمنسٹی نے ’المناک پسند: لبنان میں شامی پناہ گزینوں کو طبی امداد کی ضرورت‘ نامی اس رپورٹ میں کہا ہے کہ پناہ گزینوں کو دستیاب طبی سہولتوں میں بہت کمیاں ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس میں کہا گیا ہے کہ بعض معاملات میں انھیں ہسپتال سے واپس کردیا گیا ہے حالانکہ ان میں سے بعض کو فوری علاج کی ضرورت تھی۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل میں گلوبل تھیمیٹک مسائل کے ڈائرکٹر آڈری گوگران نے کہا: ’شامی پناہ گزینوں کے لیے ہسپتال میں علاج اور مخصوص طبی سہولت انتہائی کم ہے اور بین الاقوامی فنڈنگ میں کمی کے نتیجے میں حالات مزید خراب ہو رہے ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’بین الاقوامی برادری کی جانب سے اقوام متحدہ ریلیف فنڈ کو پوری طرح عطیات دینے میں شرم ناک ناکامی کا بلاواسطہ اثر لبنان میں موجود شامی پناہ گزینوں پر پڑ رہا ہے۔‘
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لبنان میں صحت کا شعبہ انتہائی پرائیوٹائزڈ اور مہنگا ہے جس سے بہت سے پناہ گزین اقوام متحدہ کی مراعات پر منحصر ہیں۔







