’مغرب کو دہشتگردی کی معاونت کی قیمت ادا کرنی پڑے گی‘

،تصویر کا ذریعہAFP
شام کے صدر بشار الاسد نے گذشتہ ماہ ہونے والے صدارتی انتخاب میں کامیابی حاصل کر کے تیسری بار سات سال کے لیے ملک کے صدر کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا ہے۔
شام کے سرکاری ٹی وی نے صدر بشار الاسد کے حلف اٹھانے کی تقریب کو دمشق کے صدراتی محل سے براہِ راست نشر کیا۔
واضح رہے کہ بشار الاسد کے مخالفین نے ان انتخابات کو ’ڈھونگ‘ قراد دے کر مسترد کر دیا تھا۔
صدر بشار الاسدنے ملک میں امن قائم ہونے تک ’دہشت گردوں‘ کے خلاف لڑنے کے عزم کا اظہار کیا۔ انھوں نے مخالفین کو ’قومی مصالحت‘ پیش کرنے کا بھی وعدہ کیا۔
بشار الاسد نے اپنی حکومت کے خلاف مارچ 2011 سے شروع ہونے والی تحریک کے نتیجے میں مستعفی ہونے سے انکار کر دیا تھا۔
واضح رہے کہ صدر بشار الاسد کے خلاف شروع ہونے والی تحریک میں اب تک 1,70,000 سے زائد افراد ہلاک جبکہ ایک تخمینے کے مطابق 20 لاکھ شامی ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں اور 65 لاکھ سے زائد ملک کے اندر بےگھر ہو گئے ہیں۔
بشار الاسد نے پانچ جون کو ہونے والے صدارتی انتخاب میں 88.7 فیصد ووٹ حاصل کیے تھے۔
اس انتخاب کے لیے ووٹنگ ان علاقوں میں ہوئی جہاں شامی افواج کا کنٹرول ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بدھ کو اپنے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد بشار الاسد نے اپنے حامیوں سے کہا ’گذشتہ تین سالوں اور چار مہینوں میں کچھ افراد نے آزادی کے لیے آواز اٹھائی۔ وہ انقلاب چاہتے تھے تاہم آپ لوگ اصل انقلابی ہیں اور میں آپ کو اس انقلاب اور فتح پر مبارک باد پیش کرتا ہوں۔‘
بشار الاسد نے عرب، علاقائی اور مغربی ممالک جو ان کی حکومت کو ختم کرنے کے لیے باغیوں کی مدد کر رہے ہیں سے کہا ’انھیں بہت جلد دہشت گردی کی معاونت کرنے کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی۔‘
بشارالاسد کی حامی افواج نے گذشتہ دنوں باغیوں سے کچھ اہم علاقوں پر دوبارہ قبضہ حاصل کر لیا تھا۔







