شام میں اقوام متحدہ کا قافلہ حملے کا نشانہ

شام فائل فوٹو

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنشام میں اقوام متحدہ کے انسپیکٹر ان الزامات کا تعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کیلورین گیس حملوں میں استعمال کی جا رہی ہے یا نہیں۔

شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے انسپکٹروں اور اقوام متحدہ کے عملے کا قافلہ جو کلورین گیس کے مبینہ حملوں کی ایک سائٹ کی جانب جا رہا تھا اچانک حملے کی زد میں آ گیا۔

کیمیائی ہتھیاروں کی ممانعت کی تنظیم (او پی سی ڈبلیو) کے مطابق سب محفوظ ہیں اور واپس اپنی آپریٹنگ بیس کو لوٹ رہے ہیں۔

اس بیان میں یہ نہیں کہا گیا کہ قافلے کے لوگوں کو دہشت گردوں نے اغوا کر لیا ہے۔ اس سے پہلے شامی حکومت نے کہا تھا کہ صوبہ حاما میں سفر کے دوران قافلے کے لوگوں کو ’دہشت گردوں‘نے اغوا لیا ہے۔

او پی سی ڈبلیو کے ڈائریکٹر جنرل احمد اضمکو نے عملے کی سلامتی کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’ہمارے انسپکٹرز کلورین گیس کے حملوں کے مسلسل الزامات کے سلسلے میں حقائق کا تعین کرنے کے لیے شام میں ہیں۔‘

 کفر زائتا نامی گاؤں پر کہا جاتا ہے کہ کئی حملے ہوئے ہیں جن میں گیس استعمال کی گئی ہے۔ یہ گاؤں باغیوں کے قبضے میں ہے۔

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشن کفر زائتا نامی گاؤں پر کہا جاتا ہے کہ کئی حملے ہوئے ہیں جن میں گیس استعمال کی گئی ہے۔ یہ گاؤں باغیوں کے قبضے میں ہے۔

انھوں نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ ’ان کی حفاظت بنیادی اہمیت کی حامل ہے اور اس تنازع میں شریک تمام جماعتوں کو انہیں محفوظ رسائی فراہم کرنی چاہیے۔‘

اقوام متحدہ کے انسپکٹر گاؤں کفر زائتا تک پہنچنے کی کوشش میں تھے، یہ گاؤں باغیوں کے ہاتھوں میں ہے اور گذشتہ دو ماہ میں یہاں چھ ایسے حملے ہوئے ہیں جن میں مبینہ طور کلورین گیس کا استعمال بتایا جاتا ہے۔

گذشتہ ہفتے کارکنوں نے ایک ایسی ویڈیو جاری کی جس میں ایک حملے کے بعد (جس میں ایک نوجوان کا قتل ہوا تھا) ایک ہسپتال میں مردوں اور بچوں کا علاج کیا جا رہا تھا۔

کلورین ایک عام صنعتی کیمیکل ہے، لیکن کیمیکلز ویپنز کنونشن میں ایک ہتھیار کے طور پر اس کے استعمال پر پابندی عائد کی جا چکی ہے۔شام نے اس معاہدے پر گزشتہ سال دستخط کیے تھے۔