مغربی ممالک سے اشیائے خورد و نوش کی برآمد پر پابندی

وزیراعظم دمتری میدویدیف کا کہنا ہے کہ اس پابندی کا اطلاق پھلوں، سبزیوں، گوشت، مچھلی اور دودھ کی بنی اشیا پر ہوگا

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنوزیراعظم دمتری میدویدیف کا کہنا ہے کہ اس پابندی کا اطلاق پھلوں، سبزیوں، گوشت، مچھلی اور دودھ کی بنی اشیا پر ہوگا

روس نے یوکرین کے بحران کے سلسلے میں مغربی ممالک کی جانب سے روس پر لگائی گئی پابندیوں کے جواب میں امریکہ اور یورپی یونین سے اشیائے خورد و نوش کی برآمد پر مکمل پابندی لگا دی ہے۔

وزیراعظم دمتری میدویدیف کا کہنا ہے کہ اس پابندی کا اطلاق پھلوں، سبزیوں، گوشت، مچھلی اور دودھ کی بنی اشیا پر ہوگا۔

یہ پابندی آسٹریلیا، کینیڈا اور ناروے پر بھی لاگو ہوگی۔

ٹی وی پر دیے گئے بیان میں انھوں نے کہا کہ روس یوکرینی پروازوں کو اپنے علاقوں کے اوپر سے گزرنے کی اجازت بھی نہیں دے گا۔

اس کے علاوہ انھوں نے کہا کہ امریکہ اور یورپی یونین کی پروازوں کو روسی حدود میں پرواز کی اجازت منسوخ کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

یہ پابندی آسٹریلیا، کینیڈا اور ناروے پر بھی لاگو ہوگی
،تصویر کا کیپشنیہ پابندی آسٹریلیا، کینیڈا اور ناروے پر بھی لاگو ہوگی

سربیا کی فضائی حدود میں پروازوں کو اجازت نہ دینے سے مغربی ممالک سے ایشیا جانے والی پروازوں کی قیمت اور درکار وقت میں خاصا اضافہ ہو جائے گا۔

گذشتہ سال یورپی یونین سے روس کو جانے والی اشیائے خورد و نوش کی مالیت 15.8 ارب ڈالر تھی جبکہ امریکہ سے روس جانے والی کھانے کی اشیا کی مالیت 1.3 ارب ڈالر تھی۔

یورپی یونین کے لیے ان اشیا کی دوسری بڑی مارکیٹ روس جبکہ سب سے بڑی مارکیٹ امریکہ ہے۔

مغربی حکومتیں روس پر یوکرین میں فساد اکسانے اور یوکرینی باغیوں کو ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ تربیت فراہم کرنے کا الزام لگاتی ہیں۔ روس ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔

جوابی پابندیاں

یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے امریکی صدر براک اوباما نے روس پر اقتصادی پابندیوں کا یہ کہتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ ’اس سے روس کی کمزور معیشت مزید کمزور ہوگی۔‘

سربیا کی فضائی حدود میں پروازوں کو اجازت نہ دینے سے مغربی ممالک سے ایشیا جانے والی پروازوں کی قیمت اور درکار وقت میں خاصا اضافہ ہو جائے گا

،تصویر کا ذریعہRIA Novosti

،تصویر کا کیپشنسربیا کی فضائی حدود میں پروازوں کو اجازت نہ دینے سے مغربی ممالک سے ایشیا جانے والی پروازوں کی قیمت اور درکار وقت میں خاصا اضافہ ہو جائے گا

انھوں نے کہا کہ امریکہ اور یورپی یونین کے مشترکہ اور منظم عمل سے روسی معیشت پر ’زیادہ چوٹ پڑے گی۔‘

اس سے قبل یورپی یونین نے بھی روس کے خلاف تازہ معاشی پابندیاں لگائیں جس میں روس کے تیل، دفاعی ساز و سامان اور حساس ٹیکنالوجی کے شعبوں کو نشانہ بنایا گیا۔

تازہ امریکی پابندیوں کے نتیجے میں امریکی باشندوں اور امریکہ میں رہنے والے افراد تین روسی بینکوں سے تجارت نہیں کر سکیں گے۔

ان پابندیوں کا مقصد روس کی طرف سے یوکرین کے روس نواز باغیوں کی حمایت کو مشکل بنانا ہے۔