علاج بذریعہ علمِ نجوم

برطانیہ میں کنزرویٹو پارٹی کے ایک رکنِ پارلیمان کا کہنا ہے کہ جدید طب میں علمِ نجوم کا استعمال بھی ہونا چاہیے۔
ڈیوڈ ٹریڈنک گذشتہ 20 سال سے علمِ نجوم اور نظامِ طب کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور ان کے خیال میں ان دونوں کا امتزاج موثر ثابت ہو سکتا ہے۔
ڈیوڈ ٹریڈنک برطانوی پارلیمان میں سائنس کمیٹی اور ہیلتھ کمیٹی دونوں کے رکن ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ان خیالات پر اپنا مذاق اڑائے جانے کی پروا نہیں کرتے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایک ایسی چیز کا مذاق اڑانے میں کوئی منطق نہیں جس کی کارکردگی کا ریکارڈ ثابت شدہ ہو۔‘
انھوں نے کہا کہ انھوں نے بھارتی علمِ نجوم آہیری کی تعلیم حاصل کی اور اس بات کا مشاہدہ کیا کہ کیسے اس علم نے حکومت کی مدد کی۔ اس کے علاوہ انھوں نے ہانگ کانگ کے آخری برطانوی گورنر کا بھی حوالہ دیا جنھوں نے ایک سرکاری نجومی رکھا ہوا تھا۔ جب ڈیوڈ ٹریڈنک ہانگ کانگ کے دورے پر گئے تھے تو انھوں نے اس سرکاری نجومی سے ملاقات بھی کی تھی۔
ڈیوڈ ٹریڈنک کا کہنا ہے کہ انھیں برطانوی دارالاعوام میں متبادل علمِ طب پر ان کے غیر روایتی خیالات کی وجہ سے دعوت دی گئی تھی۔ وہ حکومتی کی جڑی بوٹیوں کے سلسلے میں علاج کے ورکنگ گروپ کے وائس چیئرمین بھی ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ کئی سالوں سے ان پر ان خیالات کی وجہ سے تنقید کی جاتی رہی ہے اور مذاق اڑایا جاتا رہا ہے۔ ان کے بارے میں ایک ٹوئٹر اکاؤنٹ بھی ہے جس کا عنوان ہے ’ڈیوڈ ٹریڈنک کے ذہن کے اندر۔‘ تاہم ان کا کہنا ہے کہ ناقدین میں سے اکثر نے یہ مضامین کبھی پڑھے ہی نہیں۔
پارلیمان کے اراکین سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’مجھے اس بات کا مکمل یقین ہے کہ جو لوگ اپنے یومِ پیدائش کے دن کے زائچے کا مطالعہ کریں گے اور کسی قسم کی پیشہ ورانہ رائے کی مدد لیں گے، ان کی زندگی آسان تر ہو جائے گی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا جڑی بوٹیوں کے بارے میں ان کے خیالات ہمیشہ سے درست تھے اور اب انھیں برطانوی محکمۂ صحت این ایچ ایس میں زیادہ قبول کیا جا رہا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اب وہ علمِ نجوم کو زیادہ حمایت دینا چاہتے ہیں۔







