علم نجوم کی صنعت

،تصویر کا ذریعہGetty
دہلی میں ابھیشیک دھاون کے لیے یہ ایک معمول کا مصروف دن تھا۔ ان کا فون مستقل بج رہا تھا اور انھیں کام کے سلسلے میں کئی لوگوں سے ملنا تھا۔
ان سے رجوع کرنے والے بہت سے لوگ یہ جاننا چاہتے تھے کہ ان کے لیے اپنی مصنوعات کے اجرا کا کون سا وقت اچھا رہے گا۔
ابھشیک کئی چارٹوں کی مدد اور کئی عوامل کو سامنے رکھ کر انھیں مشورے دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن وہ کوئی اقتصادی ماہر یا معیشت داں نہیں ہیں بلکہ وہ ایک نجومی ہیں۔ وہ ستاروں اور سیاروں کی چال سے لوگوں کو اپنا منافع بڑھانے میں مدد دیتے ہیں۔
روایتی طور پر نجومی یا جوتشی شادیوں کی تاریخیں نکالتے ہیں اور جنم کنڈلیوں یا زائچوں کی مدد سے شادی کے بندھن میں بندھنے والے جوڑوں کے ستاروں کے آپس میں ملنے یا نہ ملنے کا حساب نکالتے ہیں۔
دنیا کی اس سب سے بڑی جمہوریت میں نجوم کا علم رکھنے والے کروڑوں ڈالر کا کاروبار کرتے ہیں اور یہ شعبہ ایک صنعت کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ ستاروں کو علم رکھنے والے اب اپنے گاہکوں کو مختلف قسم کی خدمات پیش کر رہے ہیں۔
آپ انٹر نیٹ لگائیں تو آپ کو بے شمار جوتشی یا ماہر علم نجوم مل جائیں گے جو آپ کو یہ مشورے دینے کے لیے تیار ہوں گے کہ آپ سٹاک مارکیٹ سے کونسے حصص اٹھائیں اور کہاں سرمایہ لگائیں یا روپے کی قدر میں کمی ہو گی یا وہ بہتر ہو گی اور سونے کی قیمت کہاں جائے گی۔

،تصویر کا ذریعہGetty
گو ان باتوں پر ہر شخص یقین نہیں رکھتا۔ بھارت میں سٹاک مارکیٹ کے نگراں ادارے سکیورٹی اینڈ ایکسچنج بورڈ آف انڈیا (سیبی) نے لوگوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ جوتشیوں کے مشورے پر سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری نہ کریں۔
لیکن بہت کم لوگ سیبی کے مشورے پر علم کرتے ہیں۔ ابھشیک جیسے لوگوں کے لیے یہ اچھی خبر ہے۔ ان کی کمپنی ask.ganesha.com
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کے گزشتہ ایک سال میں گاہکوں کی تعداد دگنی ہو گئی ہے۔
علم نجوم کی خدمات پیش کرنے والی بہت سے دوسری کمپنیوں کے گاہکوں میں بھی اس رفتار سے اضافہ ہوا ہے۔
میں نے ابھشیک سے جب یہ دریافت کیا کہ ان کی کامیابی کا تناسب کیا ہے تو انھوں نے فوراً جواب دیا کہ اسی فیصد۔ انھوں نے کہا کہ یہ ایک مکمل سائنس یا علم ہے اور وہ اسی صورت میں غلطی کرتے ہیں کہ جب لوگ انھیں اپنے بارے میں درست معلومات فراہم نہیں کرتے۔
بہت سے بھارتی کمپنیاں اپنی مصنوعات کا اجرا کرنے سے پہلے جوتشیوں یا ماہرعلم نجوم سے رجوع کرتے ہیں۔
رام یت رائے کولکتہ میں ایک کارپوریٹ مواصلات کی کمپنی چلاتے ہیں اور بہت سی کمپنیوں کو ان کی مصنوعات کی فروخت میں مدد کرتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
انھوں نے بتایا کہ بہت سی کمپنیاں اپنی مصنوعات کا نام رکھنے کے لیے بھی جوتشیوں سے رجوع کرتی ہیں۔ لوگ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ان کی مصنوع کے نام میں کتنے حرف ہوں اور کیا یہ نام ان کے لیے خوش بختی کی علامت ثابت ہوگا کہ نہیں۔
بعض اوقات کسی تقریب کا انعقاد کرنے کے لیے نیک گھڑی کا تعین بھی جوتشی کرتے ہیں حتیٰ کہ سٹیج کو کس جگہ اور کسی رخ لگایا جائے اس کا فیصلہ بھی جوتشیوں کے مشورے سے ہی کیا جاتا ہے۔
رامجیت جو چالیس برس کے ہیں وہ نوجوان نسل کے ایک کامیاب بزنس مین ہیں۔ وہ جدید دور کی بزنس دنیا میں جوتشیوں کے کردار کو کیسے دیکھتے ہیں۔
وہ جھجھکتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ ان کی زندگیوں کا اہم حصہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس کی توجیح یوں دی جاسکتی ہے کہ لوگ مذہبی ذہن رکھتے ہیں اور مذہبی انداز میں اپنی زندگیاں گزارتے ہیں۔

رامجیت کے دفتر کے قریب ہی کچھ نوجوان چائے سے محضوظ ہو رہے تھے۔
علم نجوم ان کے نصاب کا حصہ نہیں لیکن جب میں نے ان سے دریافت کیا کہ کیا وہ اپنے کاروبار میں کبھی علم نجوم سے رہنمائی لینا پسند کریں گے تو انھوں نے مجھے ایسی نظروں سے دیکھنا شروع کر دیا جیسے میرے دماغ میں خلل ہو۔
ایک طالب علم نے کہا کہ علم نجوم ان کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتا بلکہ وہ دیگر عوامل اور مارکیٹ کی صورت حال پر نظر رکھتے ہیں۔
اس سے پہلے کہ میں دوسرا سوال پوچھتا ان کے ایک دوست آلوک چائے پیتے پیتے رک کر بولے کہ ’میں کبھی بھی کسی جوتشی سے مشورہ نہ لوں اس کی کوئی ٹھوس سائنسی بنیاد نہیں ہے۔‘
میں جب چلنے کے لیے کھڑا ہوا تو کچھ طالب علم بولے کہ ’کون اپنے مالی معاملات میں جوتشیوں سے مدد لینے کی سوچےگا۔ یہ بالکل مضحکہ خیز ہے۔‘

لیکن سوال یہ ہے کہ ان طالب علموں کے خیالات جدید دور میں علم نجوم کی طرف بدلتے ہوئے رجحان کی کس قدر ترجمانی کرتے ہیں۔
بزنس کے تجزیہ کار مدار پاتھریہ اس بارے میں یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ نوجوان نسل کے تاجر معاشرے کی اس قدیم روایت سے منہ موڑ رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کچھ لوگو ہیں جو اس پر یقین نہیں رکھتے اور اسے اٹکل پچو سمجھتے ہیں۔
ان کے مطابق ایسے بہت سے ہیں لوگ ہیں جو اسے ایک سائنس کا درجہ دیتے ہیں اور ان کے خیال میں اگر ستاروں اور سیاروں کی چال دیکھ کر سرمایہ کاری کی جائے تو آپ کا کاروبار منافع بخش رہے گا۔
ابھیشک کے لیے یہ خیالات بڑے حوصلہ افزا ہیں اور انھیں ہر روز بہت سے نئے لوگ رجوع کرتے ہیں۔
ان سے تازہ ترین مشورہ ایک رنگ بنانے والی کمپنی نے مانگا ہے جو یہ پوچھنا چاہ رہی کہ وہ اپنی نئی مصنوع کا نام بلیو رکھ لیں اور کیا علم نجوم کے لحاظ سے یہ خوش بخت رہے گا۔
وہ گھر جانے کے لیے تیاری کر رہے ہیں اور گھر جانے سے پہلے اپنا فون بند کرنا چاہتے ہیں۔ اس سے پہلے کہ وہ گھر چلے جائیں میں بھی کچھ پوچھ لوں۔
آپ کی پیدائش کی گھڑی کیا تھی؟







