مرد جو عورت بن کر مشہور ہوئے

،تصویر کا ذریعہstar plus
پرانی کہاوت ہے کہ ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے لیکن کچھ ایسے مرد بھی ہیں جن کی کامیابی عورت ہونے میں ہی ہے یا یوں کہیں کہ وہ عورت بن کر مقبولیت کے پرچم گاڑ رہے ہیں۔
آپ بیگم نوازش علی سے تو متعارف ہوں گے ہی، اسی طرح ایک زمانے تک معروف کامیڈین معین اختر ’روزی‘ کے نام سے یاد کیے گئے۔
یہ تو رہی پاکستان کی بات لیکن بھارتی ٹی وی کے ناظرین میں آج ایسا کون ہے جو ’گتھی،‘ ’جھپک اور ’پمّي پيارےلال‘ جیسے ناموں سے لاعلم ہو۔ ان کرداروں کو نبھانے والے آرٹسٹ سنیل گروور ، كیکو اور گورو گیرا نے بی بی سی کے ودت مہرہ سے اپنی کامیابیوں کی داستان بیان کی۔
ٹی وی شو میڈ ان انڈیا میں ’چٹکی‘ بننے والے سنیل گروور کامیڈی نائٹس ود کپل میں ’گتھّی‘ بن کر لوگوں کے دلوں پر راج کرتے رہے۔
سنیل کہتے ہیں: ’میں نے جب سے عورت کا کردار ادا کرنا شروع کیا ہے تب سے میں انھیں اور بہتر طریقے سے سمجھنے لگا ہوں۔ خواتین صرف احترام کی حق دار ہیں اور انھیں صرف وہی ملنا چاہیے۔ میری کوشش یہی ہے کہ میرے شو میں بھی عورتوں کے احترام کو کسی طرح کی ٹھیس نہ پہنچے اور ان کی جذبات مجروح نہ ہوں۔‘

،تصویر کا ذریعہpromotional photo
کامیڈی نائٹس ود کپل میں ’جھپک‘ کا کردار ادا کرنے والے کامیڈین كیکو کہتے ہیں: ’عورتوں کو کبھی بھی ان کے رنگ، ان کے خد و خال اور پوشاک کی بنیاد پر نہیں پرکھنا چاہیے۔ اب جھپک کا ہی کردار لیجیے۔ وہ دیکھنے میں موٹی ضرور ہے لیکن لوگوں کے لیے بھرپور طور پر تفریح فراہم کرتی ہے اور سب کو خوش رکھتی ہے۔‘
اداکار گورو گیرا کہتے ہیں کہ ٹی وی پر اداکاروں کے مقابلے میں اداکاراؤں کا کام زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ گورو نے ٹی وی پر ’مس پمّي پيارےلال‘ کا کردار نبھا كر داد حاصل کی۔
وہ کہتے ہیں: ’جب میں پمّي کا کردار ادا کر رہا تھا تب مجھے یہ احساس ہوا کہ اداکاراؤں کو کتنا کچھ کرنا پڑتا ہے۔ شوٹنگ کے دوران کافی تکلیف جھیلنی پڑتی ہے۔ کبھی سینڈلز کاٹتی ہیں تو کبھی ہیلز کی وجہ سے ٹانگیں درد کرتی ہیں۔ آنکھوں پر آئی لیشز ہیں تو آنکھیں کھل نہیں رہیں۔ اس کے باوجود درست احساسات و جذبات کی عکاسی مشکل کام ہے۔ 12 سے 15 گھنٹے تک کی شفٹ کرنی پڑتی ہے۔ میں تو سچ میں تمام خواتین فنکاروں کا قائل ہو گیا ہوں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہcolors
خواتین کردار ادا کرنے والے ان مرد فنکاروں کو کیا ٹائپ کاسٹ یا ایک طرح کا ہی رول کرنے والے اداکار کا خطرہ تو نہیں ہوتا اور کیا انھیں بار بار اسی طرح کے کردار آفر نہیں ہوتے؟
اس کے جواب میں جھپک عرف كیکو نے کہا: ’شروع میں مجھے بھی ڈر لگ رہا تھا لیکن پھر ہم اسی شو میں ’لچھّا‘ نام سے ایک مرد کردار بھی لائے جو میں ہی ادا کرتا ہوں۔ اس کے بعد جھپک کی ماں بھی شو میں آئی وہ بھی میں ہی ادا کرتا ہوں۔ تو اس سے ٹائپ كاسٹ ہونے کا خطرہ تھوڑا کم ہو گیا ہے۔
چٹکی کا کردار ادا کرنے والے سنیل گروور نے کہا: ’میں پہلے بھی کئی ایسے کردار ادا کر چکا ہوں۔ جیسے ریڈیو پر ’سوڈ‘ کا کردار، جسے سن کر میرے دوست بولتے تھے کہ یار تم کہیں زندگی بھر کے لیے سوڈ ہی نہ بن جانا۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ پھر میں نے ایک خاموش شو بھی کیا اور اب یہ چٹکی آئی تو میں صرف اس سے لطف اندوز ہو رہا ہوں۔







