’کامیڈی میں کبھی خرابی نہیں کی‘

    • مصنف, حمیرا کنول
    • عہدہ, اسلام آباد

’ہم پیدا ہو چکے ہیں اور ہماری پیدائش کو 80 سال کا عرصہ ہو گیا ہے ، اپنے کام سے ہمیشہ لگا کہ کوئی کمی رہ گئی لیکن میں نے کامیڈی میں کبھی خرابی نہیں کی۔‘

یہ الفاظ سفیر اللہ کے ہیں جنھیں دنیا ’لہری‘ کے نام سے جانتی ہے۔ وہ آج اس دنیا میں تو نہیں لیکن ان کے مداح دو جنوری کو ان کی 85ویں سالگرہ منا رہے ہیں۔

اپنی زندگی کے آخری ایام میں ایک ٹانگ سے معذوری، ذیابیطس اور دیگر بیماریوں کے ساتھ ساتھ معاشی مسائل کے باوجود لہری کے انداز کی برجستگی اور اپنے الفاظ میں دوسروں کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیرنے کی عادت برقرار تھی۔

پاکستان کے قیام کے بعد وہ اپنے خاندان ساتھ ریاست اترپردیش کے شہر کان پور سے کراچی آنے والے لہری نے ایک طویل عرصہ لاہور میں گزارا لیکن پھر فلمی زندگی سے الگ ہونے کے بعد وہ پھر کراچی جا بسے تھے۔

اس میں تو کوئی شک نہیں کہ ان میں قدرتی طور پر فنی صلاحیتیں تھی وہ کالج میں اداکاری کر چکے تھے لیکن یہ فکر معاش تھی جس نے ایک سٹینو کے اندر چھپے اداکار کو دنیا سے متعارف کروا دیا۔

’برنس روڈ پر ٹائپنگ اور شارٹ ہینڈ سیکھنی شروع کی اور سٹینو کی نوکری تو مل گئی لیکن میں سوچتا رہتا تھا کہ بڑھاپے میں میں کیا کروں گا۔ یہ سوچ کر میں نے مقامی سٹیج پر ون مین شو کرنے شروع کر دیے جس سے تھوڑے روپے مل جاتے تھے۔ ریڈیو میں آڈیشن میں فیل ہوا لیکن لائٹ ہاؤس کے پاس دفتر میں آڈیشن دیا تو لطیف حسن لچھو نے فلم کے لیے منتخب کر لیا۔‘

1965 میں فلمی دنیا میں قدم رکھنے والے سفیر اللہ کو ڈائریکٹر نے لہری کا نام دیا۔ انھوں نے فلم’ انوکھی‘ سے اپنے سفر کی ابتدا کی۔

’یہ فلم انڈین ڈائریکٹر نے بنائی تھی جس میں سائڈ ہیرو کا کردار ملا تھا جس کی کامیابی کے بعد مجھے کام ملنا شروع ہوگیا پھر لاہور والے مجھے ساتھ لے گئے، وہاں 30 سال گزارے کام کیا لیکن کام میں اپنی پسند کی فلم میں ہی کرتا تھا۔‘

لہری جس دور میں آئے وہ پاکستان فلم انڈسٹری کے عروج کا دور تھا اور کامیڈین نذر اور منور ظریف کے بڑے بھائی ظریف کا بول بالا تھا۔

آنے والے وقت میں لہری کا مقابلہ ننھا، منور ظریف اور رنگیلا سے ہوا لیکن انھوں نے اپنی انفرادیت قائم رکھی اور دو سو کے قریب فلموں میں کام کیا جن میں کچھ تعداد پنجابی فلموں کی بھی ہے۔

لہری نے بتایا کہ انھیں اپنی فلمیں نورین ، نئی لیلیٰ، نیا مجنوں بہت پسند تھیں۔ اداکاروں میں وہ ظریف سے بہت متاثر تھے ۔ انھوں نے نیّر سلطانہ، صبیحہ خانم، وحید مراد، ندیم اور محمد علی اور شبنم کے ساتھ کئی فلموں میں کام کیا۔

لہری کو حکومت کی جانب سے پرائڈ آف پرفارمنس اور نگار ایوارڈ سمیت کئی ایوارڈز ملے لیکن زندگی کے ایک حادثے نے انھیں فلم انڈسٹری سے دور کر دیا۔وہ حادثہ کیا تھا یہ بہت کم لوگ جانتے ہیں۔

’پچیس سال ہوگئے فلم انڈسٹری چھوڑے، فلم کی شوٹنگ کے دوران میں بینکاک گیا تو وہاں مجھے فالج ہو گیا۔ کام کرنے کی طاقت ختم ہوگئی تھی۔‘ لیکن بیماری کے باوجود ان کے اندر کا فنکار زندہ تھا اور آنے والے وقت میں انھوں نے اس کا ثبوت بھی دیا۔

اپنے اہل خانہ سے ملاقات میں انھوں نے اپنے آٹھ بچوں کا ذکر کیا لیکن اپنی اہلیہ کو پہلی بیوی کہہ کر متعارف کروایا۔

جب میں نے یہ پوچھا کہ دوسری شادی کب اور کیوں کی تو وہ مسکر کر کہنے لگے: ’دوسری تو ابھی کی ہی نھیں کیونکہ پہلی والی اچھی بہت تھی میں اس پر ظلم نہیں کر سکتا تھا، اب تو اس کا سر سفید ہو گیا ہے اور اسے باجی کہنے کو دل کرتا ہے۔ آپ یوں سمجھیں میری مولوی سے شادی ہوگئی۔‘

پاکستان فلم انڈسٹری کی بات چلی تو لہری نے کہا کہ ’کون سی فلم انڈسٹری؟ اب تو فلم انڈسٹری رہی ہی نہیں۔ پہلے فلمیں اچھی تھیں اور انڈیا کے مقابلے میں ہوتی تھیں۔ جب میں نے دیکھا کہ سینما ٹوٹ رہے ہیں تو میں نے اپنا ایک پلے لکھا جس کا نام تھا ’ڈیڈی اِن ٹربل‘ اور وہ بیرون ملک بھی کیا۔‘

ہر اداکار پر تنقید ہوتی ہے لیکن لہری کا شمار ان میں ہوتا ہے جنھیں بہت کم تنقید کا سامنا کرنا پڑا ۔اپنے کام کے بارے میں لہری نے کہا کہ ’دیکھ کر ہمیشہ محسوس کرتا تھا کہ کچھ کمی رہ گئی ہے، پورا اطمینان نھیں ہوتا تھا لیکن میں نے کامیڈی میں خرابی نہیں کی۔‘

اپنی وفات سے قبل لہری نے ایک پریس کانفرنس بھی کی اور یہ پریس کانفرنس ایک معاشی مجبوری تھی۔اس کا ذکر کرتے ہوئے لہری نے بتایا تھا ’ہوا یہ تھا کہ میرا 36 ہزار کا بل آ گیا تھا اور میں پریشان ہو گیا تھا۔ پریس کانفرنس کے بعد چند فنکاروں اور سیاسی جماعت نے مدد تو کی لیکن کام تو ہے ہی نہیںت فنکار کہاں جائیں؟ انھیں حکومتی مدد کی ضرورت ہے۔‘