تائیوان میں طیارہ گر کر تباہ، 47 افراد ہلاک

،تصویر کا ذریعہAFP
تائیوان میں حکام کے مطابق ایک طیارہ ہنگامی لینڈنگ میں ناکامی کے بعد گر کر تباہ ہو گیا ہے جس میں 47 افراد ہلاک اور 11 زخمی ہوگئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ٹرانز ایشیا ایئر لائنز کا مسافر بردار طیارہ تائیوان کے مغربی ساحلی جزیرے پینگھو میں منگوانگ ایئرپورٹ پر ہنگامی لینڈنگ کرنے کی کوشش کے دوران گر کر تباہ ہو گیا۔
تائیوان کے خبر رساں ادارے سی این اے کے مطابق طیارے پر 54 مسافر اور عملے کے چار ارکان سوار تھے۔ سی این اے کے مطابق ملک کے وزیرِ ٹرانسپورٹ یہہ کیوانگ شیہ نے کہا کہ اس واقعے میں 47 افراد ہلاک اور 11 زخمی ہوئے ہیں۔
مقامی میڈیا نے ہوا بازی کے محکمے کے حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ پرواز جی ای 222 نے لینڈنگ کی پہلی کوشش ترک کر دی اور دوسری کوشش کے دوران گر کر تباہ ہو گیا۔
شہری ہوابازی کے ڈائریکٹر جین شین نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ’جائے حادثہ پر افراتفری کی صورتِ حال ہے۔‘
عالمی خبررساں ادارے اس طیارے کے حادثے میں ہلاک ہونے والوں کے بارے میں متضاد اطلاعات دے رہے ہیں۔
خبر رساں ادارے سی این اے نے شہری ہوا بازی کے محکمے کے حوالے سے بتایا کہ اے ٹی آر کا طیارہ ملک کے جنوبی علاقے کاوہسینگ کے شہر مقامی وقت کے مطابق شام 5:43 پر روانہ ہوا لیکن 7:6 پر اس کا ریڈار کنٹرول کے ساتھ رابطہ منقطع ہو گیا۔
مقامی میڈیا کے مطابق اس کے بعد طیارے کا جلتا ہوا ملبہ پینگھو کے جزیرے میں شیشی گاؤں میں ملا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
آگ بجھانے والا عملہ اور ریسکیو کارکنوں نے امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا۔
پینگھو میں آگ بجھانے کے محکمے کے ترجمان ہسی وین گانگ نے کہا کہ ’طیارہ گرنے کے وقت طوفان تھا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ہم نے جائے حادثے سے 11 زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر دیا ہے۔ رن وے کے قریب کچھ خالی عمارتوں میں آگ لگی تھی لیکن اس پر قابو پا لیا گیا ہے۔‘
طیارے تیار کرنے والی کمپنی اے ٹی آر نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہمیں طیارہ گرنے کے بارے میں معلوم ہے۔ ہم مزید معلومات اکٹھی کر رہے ہیں اور اس کی تصدیق کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اصل میں کیا ہوا۔‘
اس سے پہلے بدھ کو تائیوان میں طوفان ماتمو کی وجہ سے شدید آندھی چلی تھی اور بارشیں ہوئی تھیں جس کی وجہ سے کئی پروازوں کو منسوخ کیا گیا تھا۔
تاہم شہری ہوا بازی کے ایک ہلکار نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ طیارے کے اترنے کے وقت موسم اتنا خراب نہیں تھا اور لینڈنگ کے لیے اجازت دینے کے بین الاقوامی قوانین کے مطابق تھا۔







