امریکہ: طالبان کی مدد کرنے والے کمپیوٹر ماہر کو سزا

،تصویر کا ذریعہAP
امریکہ میں ایک عدالت نے انٹرنیٹ کے ذریعے دہشت گردی میں مدد دینے کے الزام میں ایک برطانوی کمپیوٹر ماہر کو ساڑھے 12 سال قید کی سزا سنائی ہے۔
جنوبی لندن سے تعلق رکھنے والے بابر احمد نے طالبان کی مدد کرنے کا اعتراف کر لیا ہے۔ بابر پہلے ہی برطانیہ اور امریکہ کی جیلوں میں دس برس گزار چکے ہیں اور ان کے وکیل کا خیال ہے کہ وہ آئندہ سات ماہ میں رہا ہو سکتے ہیں۔
وہ استغاثہ کے ساتھ کیے جانے والے ایک معاہدے کے تحت اس فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کے حق سے دست بردار ہو چکے ہیں۔
اس سلسلے میں ان کے ساتھ ایک اور ملزم سید طلحہ احسن کو قید میں گزارے گئے وقت کی ہی سزا سنائی گئی جس کا مطلب ہے کہ وہ اب آزاد ہیں۔
بابر احمد کو سزا سنانے کے بارے میں جج کا کہنا تھا کہ انھیں اس مقدمے میں جرم کی سنگینی کے مقابلے میں بابر احمد کے اچھے رویے کے بارے میں سوچنا پڑا۔ جج کا کہنا تھا کہ انھیں بابر احمد کے اچھے کردار کے بارے میں ہزاروں خطوط موصول ہوئے اور برطانوی جیل کے نگرانوں نے بھی ان کے مثالی قیدی ہونے کا اعتراف کیا۔
انھوں نے کہا کہ بابر اب ایک عملی دہشت گرد نہیں ہیں، اور عوام کو ان سے کوئی خطرہ نہیں۔ اس کے علاوہ جج کا کہنا تھا کہ بابر کو اس بات کا پچھتاوا ہے کہ انھوں نے جہاد کی تشہیر کے لیے ویب سائٹیں بنائیں۔
جج کا کہنا تھا کہ انھیں اس بات کا خیال تھا کہ ایک 18 سالہ نوجوان کے طور پر بوسنیا کی جنگ نے بابر پر کیسا اثر ڈالا ہوگا جہاں وہ ایک نوجوان کی حیثیت سے گئے تھے اور انھوں نے مسلمانوں کی مشکلات دیکھی تھیں۔
امریکی ریاست کنیٹیکٹ کی عدالت نے انھیں 150 ماہ کی سزا سنائی جو استغاثہ کی درخواست کا نصف ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
توقع کی جا رہی ہے کہ بابر احمد اب اپنی باقی قید نیویارک میں گزاریں گے۔
ان کے وکلا کا کہنا ہے کہ بابر کی رہائی کی تاریخ ان کے اچھے رویے پر منحصر ہوگی۔







