شدت پسند کون ہے؟

فوج نے کہا ہے کہ زمینی کارروائی کے دوران پاکستانی فوج کے اہلکار گھر گھر تلاشی کرتے ہوئے کسی کی بے گناہی کا تعین نہیں کر سکتے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنفوج نے کہا ہے کہ زمینی کارروائی کے دوران پاکستانی فوج کے اہلکار گھر گھر تلاشی کرتے ہوئے کسی کی بے گناہی کا تعین نہیں کر سکتے
    • مصنف, شجاع ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں ضربِ عضب نامی فوجی آپریشن جاری ہے اور اس حوالے سے حکومت پاکستان کے پاس 466291 افراد کا بطور پناہ گزین اندراج ہو چکا ہے۔

فوج کا خیال ہے کہ ان کے علاوہ اب جو افرادہ پیچھے رہ گئے ہیں، وہ دہشت گرد ہیں۔

1998 کی مردم شماری کے مطابق شمالی وزیرستان کی آبادی تقریباً ساڑھے چار لاکھ تھی۔ اگرچہ شمالی وزیرستان کی موجودہ آبادی کے بارے میں متفقہ رائے یہ ہے کہ اس ایجنسی میں سات سے آٹھ لاکھ افراد بستے ہیں، ایک محتاط اندازے کے تحت یہ کہنا درست ہوگا کہ کم از کم چھ لاکھ افراد شمالی وزیرستان کے رہائشی ہیں۔

ان اعداد و شمار کے مطابق ضربِ عضب ایک لاکھ سے زیادہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ہے۔

پاکستانی فوج نے شمالی وزیرستان میں آپریشن سے قبل اعلانات کے ذریعے مقامی افراد کو نقلِ مکانی کے لیے کہا تھا۔ ان کے مطابق جو افراد اب بھی شمالی وزیرستان میں موجود ہیں انھیں شدت پسند تصور کیا جائے گا۔

ان کا کہنا ہے کہ اب بھی اگر کوئی افراد متاثرہ علاقے میں رہ گئے ہیں تو انھیں حراست میں لیا جائے گا، اس بات کی چھان بین کی جائے گی کہ کیا وہ دہشت گرد ہیں یا پھر عام شہری جو کسی وجہ سے علاقے سے نکل نہیں سکے۔ تفتیش کے بعد ہی بے گناہ افراد کو رہا کیا جائے گا۔

فوج نے کہا ہے کہ زمینی کارروائی کے دوران پاکستانی فوج کے اہلکار گھر گھر تلاشی کرتے ہوئے کسی کی بے گناہی کا تعین نہیں کر سکتے، اسی لیے وہ تمام مشتبہ افراد کو حراست میں لیں گے، تاہم مختلف ذرائع سے معلومات کی تصدیق کے بعد بے گناہ افراد کو رہا کر دیا جائے گا۔

فوج کے مطابق اب تک آپریشن ضربِ عضب میں سینکڑوں دہشت گروں کو ہلاک کیا جا چکا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنفوج کے مطابق اب تک آپریشن ضربِ عضب میں سینکڑوں دہشت گروں کو ہلاک کیا جا چکا ہے

یاد رہے کہ اوباما انتظامیہ نے سی آئی اے کے زیرِ انتظام ڈرون حملوں کے حوالے سے مخصوص علاقوں کے تمام ایسے مردوں کو دہشت گرد قرار دے رکھا ہے جن کی عمر فوجی معیار پر پوری اترتی ہے۔

اس کے علاوہ جارج بش کی انتظامیہ نے گوانتانامو بے کے قیدیوں کو جنیوا کنونشن میں یقینی بنائے گئے حقوق نہ دینے کے لیے جنگی قیدیوں کے بجائے ’اینیمی کمبیٹنٹ‘ یعنی دشمن جنگجو قرار دیا تھا۔

ان دونوں مواقع پر امریکی حکومت پر شدید تنقید کی گئی تھی۔

پاکستانی فوج کی جانب سے اس آپریشن کے لیے دہشت گرد کی اس قدر مبہم تعریف بیان کرنے کی کیا وجہ ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ شاید ہی آج تک کسی قوم نے حالتِ جنگ میں اپنے یا کسی دوسرے ملک کے شہریوں کو وہ حقوق دیے ہوں جو عام طور پر بنیادی حقوق تصور کیے جاتے ہیں۔

عام طور پر دنیا بھر کی عدالتوں میں کسی بھی شخص کو اس وقت تک بے قصور سمجھا جاتا ہے جب تک ان کے خلاف جرم ثابت نہیں ہو جاتا۔ مگر ضربِ عضب سے منسلک عسکری ماہر کہتے ہیں کہ ’آپ خود سوچیں، اگر ہمارے فوجیوں کا کسی گھر کی تلاشی کے دوران ایسے افراد سے سامنا ہوتا ہے جو کہ نہ تو فائرنگ کر رہے ہیں اور نہ ہی بظاہر کسی تشدد میں ملوث ہیں، لیکن علاقے کی روایت کے مطابق ہتھیاروں سے لیس ہیں، تو کیا انھیں جانے دیا جائے؟

آپ کو کیا معلوم کہ چند روز قبل وہ کس دہشت گرد تنظیم سے تعلق رکھتا تھا یا کس تنظیم میں کتنا بااثر تھا۔ یہ سب تو چھان بین کے بعد ہی سامنے آئے گا۔‘