یوکرین میں باغیوں کی سلوویانسک سے پسپائی

دوبارہ جنگ بندی کرانے کے لیے اس ہفتے سخت کوششیں کی گئیں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشندوبارہ جنگ بندی کرانے کے لیے اس ہفتے سخت کوششیں کی گئیں

یوکرین میں روس نواز باغی فوج کی طرف سے سخت کارروائی کے بعد ملک کے مشرق میں اپنے مضبوط گڑھ سلوویانسک سے پسپا ہو گئے ہیں۔

علیحدگی پسندوں کا کہنا ہے کہ ’فوج کی بڑی تعداد کی وجہ سے‘ وہ سلوویانسک سے کراماتورسک کی جانب پسپائی کرنے پر مجبور ہوئے۔

فوج نے سلوویانسک میں کونسل کی عمارت پر یوکرین کا جھنڈا دوبارہ لہرا دیا ہے۔ سرکای حکام اور فوج باغیوں کے آخری چوکیوں کو خالی کرنے میں لگی ہوئی ہے۔اطلاعات کے مطابق فوج نے مزید دو چھوٹے قصبوں پر بھی دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

حکومت اور باغیوں دنوں نے تصدیق کی ہے کہ علیحدگی پسند سلوویانسک سے نکل گئے ہیں۔

خود ساختہ دونیتسک پیپلز ریپبلک کے وزیرِ اعظم ایلیگزینڈر بوردوائی نے باغیوں کے ایک ویب سائٹ پر کہا کہ’ہمارے مقابلے میں دشمنوں کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے ہمارے جنگجو اپنی جگہ چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔‘

باغیوں کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ انھوں نے کراماتورسک کی جانب پسپائی اختیار کی لیکن عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ باغی کراماترسک میں اپنے چوکیاں چھوڑ رہے تھے اور لگتا تھا کہ وہ دونیتسک کی طرف نکل رہے ہیں۔

باغیوں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ سلوویانسک چھوڑنے کے فیصلہ خودساختہ دونیتسک پیپلز ریبپلک کے فوجی کمانڈر ایغور سٹریکوف نے لیا تھا۔ انھوں نے جعے کو روس سے اپیل مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے آدمیوں میں مزید لڑنے کی ہمت نہیں ہے۔

یوکرینی فوج نے 10 دن تک جاری رہنے والی جنگ بندی ختم ہونے کی بعد اس ہفتے علیحدگی پسندوں کے خلاف کارروائی شروع کی۔

کیئف میں بی بی سی کے ڈیوڈ سٹرن کا کہنا ہے کہ سلوویانسک کو دوبارہ قبضہ کرنا حکومت کی بڑی کامیابی ہے۔ یہ وہ علاقہ ہے جہاں اپریل میں بغاوت شروع ہوئی تھی۔

ادھر دوبارہ جنگ بندی کرانے کے لیے اس ہفتے سخت کوششیں کی گئیں۔ جرمنی، فرانس، امریکہ، روس اور یوکرین کے درمیان ٹیلی فون پر رابطے ہوئے۔

یوکرین کے صدر پیٹرو پوروشنکو نے کہا کہ وہ دوبارہ جنگ کرنے کے لیے تیار ہیں بشرط یہ کہ اس کی پابندی دونوں طرفین کریں، تمام مغویوں کو رہا کیا جائے اور ملک کی سرحدوں کی حفاظت فوج کرے۔

خیال رہے کہ صدر پیٹرو پورو شینکو نے مشرقی علاقوں کے علیحدگی پسندوں کے ساتھ کی گئی فائر بندی ختم کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہم حملہ کریں گے، ہم اپنی زمین آزاد کروائیں گے۔‘