انتقامی پورن ’برطانیہ میں بڑھتا ہوا مسئلہ ہے‘

،تصویر کا ذریعہGETTY
برطانیہ میں وزرا سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ’انتقامی پورن‘ کی روک تھام کو بامعنی بنانے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے باعث ہونے والے نفسیاتی تشدد کی تمام شکلوں کو غیر قانونی قرار دیا جائے۔
واضح رہے کہ ’انتقامی پورن‘ یا ریوینج پورن اس کو کہتے ہیں جب کوئی شخص اپنے سابق ساتھی سے رشتہ ٹوٹ جانے کے بعد انتقام لینے کے لیے اس کی ذاتی تصاویر اور ویڈیو انٹرنیٹ پر ڈال دیتا ہے۔
برطانیہ کے وزیر برائے انصاف کرس گریلنگ نے کہا ہے کہ حکومت اس بڑھتے ہوئے مسئلے کو حل کرنے کے لیے قانون میں تبدیلی کے لیے تجاویز کا خیر مقدم کرے گی۔
تاہم انتقامی پورن کے خلاف مہم چلانے والی تنظیم ویمنز ایڈ نے حکومت سے درخواست کی ہے کہ حکومت کو ایک قدم آگے بڑھ کر نظامِ انصاف کے ذریعے نشانہ بننے والی خواتین کی مدد کرنی چاہیے۔
وزرا کا کہنا ہے کہ وہ خزاں میں اس سلسلے میں اقدامات کریں گے۔ گریلنگ نے ممبر پارلیمان کو بتایا کہ یہ مسئلہ برطانیہ میں پیچیدہ تر ہوتا جا رہا ہے۔
کنزرویٹو جماعت کی ماریا ملر نے کہا ہے کہ اس ہولناک طرزِ عمل کو روکنے کے لیے قانون میں تبدیلی کرنی ہو گی۔
گریلنگ نے کہا: ’ماریا ملر نے اس مسئلے کو اٹھانے کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہ واضح ہے کہ انتقامی پورن ہمارے معاشرے میں ایک بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔‘
تاہم ویمنز ایڈ کی چیف ایگزیکٹیو پولی نیٹ کا کہنا ہے: ’انتقامی پورن کے خلاف موثر کارروائی کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اس سے پیدا ہونے والے ہر قسم کے نفسیاتی تشدد کو بھی مدِ نظر رکھا جائے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ ’اس نفسیاتی تشدد ہی سے کسی کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے اور یہی گھریلو تشدد کا باعث بنتا ہے۔ ہم مسٹر گریلنگ اور ہوم آفس سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ متاثرین کو انصاف ملے۔‘
واضح رہے انتقامی پورن کو جرم قرار دینے کے لیے امریکی ریاست ٹیکسس، یوٹا، وسکانسن، نیویارک، میری لینڈ، کیلیفورنیا اور نیو جرسی میں قوانین میں ترامیم کی گئی ہیں۔
کیلیفورنیا میں قانون نافذ کا اطلاق خود لی گئی تصاویر پر نہیں ہوتا۔ تاہم مہم چلانے والے کارکنوں کا دعویٰ ہے کہ خود لی گئی تصاویر کو بھی اس قانون میں شامل کیا جائے کیونکہ ایسی تصاویر انتقامی پورن کا 80 فیصد حصہ بنتی ہیں۔







