خودکشی کی روک تھام کے لیے پل پر جال لگانے کا منصوبہ

،تصویر کا ذریعہap
امریکی شہر سان فرانسیسکو میں حکام نے مشہور پل گولڈن گیٹ برج پر سے چھلانگ کر خودکشیوں کو روکنے کے لیے سٹیل کی جال لگانے کے تعمیراتی منصوبے کی منظوری دی ہے۔
اس پل کی انتظامیہ کے بورڈ نے متفقہ طور اس تعیمراتی منصوبے کے لیے 76 ملین امریکی ڈالر کی منظوری دی۔
گولڈن گیٹ بریج سنہ 1937 میں عوام کے لیے کھول دیا گیا تھا اور اس وقت سے لے اب تک 1400 سے زائدہ افراد اس سے چھلانگ کر خودکشی کر چکے ہیں۔
خودکشی کرنے والوں کے لواحقین ایک عرصے سے پل پر حفاظتی اقدامات کے لیے مہم چلا رہے تھے اور جال لگانے کا منصوبہ اس سلسلے میں ایک اہم قدم ہے۔
جان بروکس نے جن کی بیٹی نے سنہ 2008 میں گولڈ گیٹ برج سے چھلانگ کر خودکشی کی تھی، کہا کہ ’منصوبے کے لیے رقم کے اعلان کا انتظار کرتے ہوئے ہمارے گروپ میں مزید لوگ شامل ہوئے جو زندہ بچ جانے والوں کے لیے زیادہ تکلیف دہ تھا۔‘
پل پر سے چھلانگ لگا کر خودکشی کرنے کو روکنے کے لیے حکام نے سنہ 2008 میں پہلی بار دیگر حفاظتی تدابیر پر سٹیل کا جال لگانے کو ترجیح دیتے ہوئے اس کی منظوری دی تھی۔
لیکن اس منصوبے کے لیے رقم کی دستیابی میں رکاؤٹ ایک بڑا مسئلہ تھا جو کہ اس وقت زیادہ تر حل ہوا جب امریکی صدر نے ایک قانون پر دستخط کیے جس کے تحت حفاظتی بند اور جال کے منصوبوں کے لیے وفاق کی طرف سے رقم فراہم کرنے کی اجازت دی گئی۔
حکام کے مطابق یہ جال پل کے دونوں طرف 20 فٹ تک لٹکا ہوگا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جمعرات کو نیوز کانفرنس کے دوران گولڈن گیٹ برج سے چھلانگ کر خودکشی کی کوشش کرنے کے بعد زندہ بچ جانے والوں میں ایک نے جال لگانے کی منطق کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ خودکشی کرنا چاہتے ہیں وہ پل پر جال لگنے کے بعد کوئی اور راستہ نکال لیں گے۔
کیون ہائنز نے جن کی عمر 32 سال ہے، کہا کہ جب انھوں نے پل سے چھلانگ لگائی تو انھیں ’فوراً افسوس ہوا۔‘ انھوں نے کہا کہ ’کوئی بھی، اب کوئی بھی ایک جان اس پل کے ذریعے ضائع نہیں ہوگی۔‘
پل کے جنرل منیجر ڈینس میولیگان نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ پل پر جال لگانے کا تعمیراتی منصوبہ سنہ 2018 تک مکمل ہوگا۔







