غار میں دبا شخص 12 روز بعد بازیاب

امدادی کارروائی میں کئی مشکلات اور خطرات تھے کیونکہ غار کے اندر راستے گہرے اور تنگ ہیں
،تصویر کا کیپشنامدادی کارروائی میں کئی مشکلات اور خطرات تھے کیونکہ غار کے اندر راستے گہرے اور تنگ ہیں

جرمنی کے ایک غار میں دبے زخمی شخص کو ایک محتاط امدادی کارروائی کرتے ہوئے 12روز بعد زندہ نکال لیا گیا ہے۔

یوہان ویسٹ ہاؤزر آٹھ جون کو اُس وقت بری طرح زخمی ہو گئے تھے جب وہ جرمنی کے گہرے ترین غار میں پتھر گرنے کے باعث اندر دب گئے۔

52 سالہ ویسٹ ہاؤزر کے ہمراہ دو دیگر افراد بھی آسٹریا کی سرحد کے قریب واقع اس غار میں دب گئے تھے۔

ان میں سے ایک نے خطرے کی گھنٹی بجا دی جس کے بعد ان کی بازیابی کے لیے امدادی کارروائی شروع کی گئی۔

ایک ہفتے طویل اس سفر میں دو ڈاکٹر بھی ان کے ہمراہ تھے۔

جب وہ غار سے باہر آئے تو طبی عملہ اور ہیلی کاپٹر وہاں موجود تھے۔ ابتدائی طبی معائنے کے بعد انھیں ہسپتال روانہ کر دیا گیا۔

اس مشکل امدادی کارروائی میں کئی مشکلات اور خطرات تھے کیونکہ یہاں غار کے اندر گہرے تنگ راستے ہیں اور آخری 180 میٹر عمودی موڑ سب سے زیادہ مشکل ثابت ہوا۔

یوہان ویسٹ ہاؤزر جرمنی کے گہرے ترین غار میں پتھر گرنے کے باعث دب گئے تھے

،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES

،تصویر کا کیپشنیوہان ویسٹ ہاؤزر جرمنی کے گہرے ترین غار میں پتھر گرنے کے باعث دب گئے تھے