روس میں برفانی غاروں کی خوبصورتی نے فوٹوگرافر کو حیران کر دیا
،تصویر کا کیپشنروسی فوٹوگرافر اینڈرے نیکراسوف نے سائبیریا میں واقع جھیل بیکال کے برفانی غاروں کو عکس بند کیا ہے۔
،تصویر کا کیپشنروس میں سائبیریا کے ویرانوں میں واقع بیکال جھیل کا شمار دنیا کی گہری ترین جھیلوں میں ہوتا ہے۔ یہ جھیل چار سو میل لمبی اور ایک میل گہری ہے۔ سال میں پانچ ماہ یہ جھیل برف کی تقریباً ایک میٹر موٹی تہہ سے ڈھکی رہتی ہے۔
،تصویر کا کیپشناس قدر شدید موسم کے باوجود یہاں زندگی پھل پھول رہی ہے اور یہاں پائے جانے والے جانداروں کی اقسام کا 80 فیصد دنیا میں اور کہیں موجود نہیں ہے۔ غوطہ خور اس مقام پر جانا پسند کرتے ہیں اور ایسے ہی ایک دورے کے دوران نیکراسوف نے جزیرہ اولخون پر ان خوبصورت مناظر کی تصاویر کھینچیں۔
،تصویر کا کیپشننیکراسوف اور ان کے دوستوں کو ساحل کے قریب برف کے نیچے غوطہ خوری کے دوران یہ برفانی غار نظر آئے۔
،تصویر کا کیپشنجن مقامات پر موسم گرما میں ہوا کا درجۂ حرارت صفر ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر چلا جاتا ہے وہاں اس طرح برف جم جاتی ہے۔
،تصویر کا کیپشنغاروں میں جمنے والی برف کی تین اقسام ہوتی ہیں جس کا انحصار برف کے اندر موجود خلا اور اس خلا میں ہوا کی نقل و حرکت پر ہوتا ہے۔
،تصویر کا کیپشنموسم سرما میں برفانی طوفانوں کے بعد یہاں برف کے بند بن گئے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنغاروں میں بارش کے پانی اور برف کے پگھلنے سے کلسی مواد اُگ جاتا ہے۔
،تصویر کا کیپشننیکراسوف کا خیال ہے کہ یہ منفرد شکلیں اور ساختیں حیرت انگیز ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’میں قدرت کی طاقت اور خوبصورتی پر حیران ہوں۔‘