امریکی قونصلیٹ پر حملہ آوروں کا سرغنہ گرفتار

،تصویر کا ذریعہAFP
امریکہ کے محکمۂ دفاع کا کہنا ہے کہ لبیا کے شہر بن غازی میں امریکی قونصلیٹ پر حملہ کرنے والے گروپ کے سرغنہ کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
بن غازی میں امریکی قونصلیٹ پر 11 ستمبر سنہ 2012 کو ہونے والے حملے میں امریکی سفیر سمیت چار امریکی اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔ مسلح حملہ آوروں نے قونصلیٹ کو آگ لگا دی تھی۔
امریکی سکیورٹی اہلکاروں نے قونصلیٹ پر حملہ آوروں کے گروپ کے سرغنہ احمد ابو ختالہ کو 15 جون کو لیبیا میں ایک خفیہ چھاپے کے دوران گرفتار کیا۔
پینٹاگون کے ایک ترجمان کے مطابق اب احمد ابو ختالہ کو ملک سے باہر محفوظ مقام پر حراست میں رکھا گیا ہے۔
پینٹاگون کے پریس سیکریٹری ریئر ایڈمرل جان کربی نے ایک تحریری بیان میں ابو ختالہ کی گرفتاری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’اس آپریشن میں کسی عام شہری کو کوئی نقصان نہیں پہنچا اور اس آپریشن میں شامل تمام اہلکار بحفاظت لیبیا سے نکل چکے ہیں۔‘
اس اعلان کے بعد امریکی صدر براک اوباما نے فوج ، قانون نافذ کرنے والے اور انٹیلی جنس اداروں کے ان اہلکاروں کے پیشہ وارانہ اقدار کی تعریف کی جنھوں نے ابو ختالہ کا پتہ لگا کر انھیں گرفتار کیا اور جسے امریکی قونصلیٹ پر حملے کا ’کلیدی کردار‘ سمجھتا ہے۔
براک اوباما نے کہا کہ ’جب امریکی شہریوں پر حملہ ہوتا ہے تو چاہے جتنا بھی وقت لگے ہم ان کے ذمہ داران کو انصاف کے کٹھرے میں لا کھڑا کر دیں گے۔‘
ریکارڈ کے مطابق ابو ختالہ پر واشنگٹن کے ایک وفاقی عدالت میں لیبیا میں ایک امریکی وفاقی عمارت پر حملے کے دوران ایک شخص کو قتل کرنے، شدت پسندوں کی مدد کرنے اور آتشی اسلحہ استعمال کرنے کے الزمات عائد کیے گئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وائٹ ہاؤس نے ابتدا میں کہا تھا کہ قونصلیٹ پر حملے کی وجہ امریکہ میں مبینہ طور ایک اسلام مخالف فلم کی تیاری کی وجہ سے پیدا ہونے والے امریکہ مخالف جذبات تھے۔
تاہم حکومت کی طرف سے کیے گیے تحقیقات میں جلد یہ بات سامنے آئی کہ قونصلیٹ پر مقامی ملیشیا نے ایک سوچھ سمجھے منصبوبے کے تحت حملہ کیا تھا۔







