ایک سال تک انتخابات نہیں ہوں گے: تھائی فوجی حکمران

،تصویر کا ذریعہREUTERS
تھائی لینڈ میں منتخب حکومت کے خلاف بغاوت کرنے والے فوجی حکمران نے کہا ہے کہ ملک میں آئندہ ایک سال سے زائد عرصے تک انتخابات منعقد نہیں کرائے جائیں گے تاکہ سیاسی مفاہمت اور اصلاحات کے لیے وقت دیا جا سکے۔
نئے فوجی حکمران جنرل پرے یوتھ چان اوچا نے ٹی وی پر اپنی خطاب میں تمام لوگوں سے احتجاج ختم کرنے اور تعاون کرنے کا کہا۔ انھوں نے ایک بار پھر خبردار کیا کہ فوج کے خلاف کسی قسم کی مزاحمت کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔
تھائی لینڈ میں 22 مئی کو مارشل لا کے نفاذ کے بعد فوج کے سربراہ نے فوجی بغاوت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کیا تھا کہ اب حکومت فوج نے سنبھال لی ہے اور ملک میں مہینوں سے جاری کشیدگی کو ختم کرکے استحکام قائم کیا جائے گا۔
فوجی حکومت نے ملک کی سابق وزیرِ اعظم ینگ لک شناوترا سمیت کئی سیاسی رہنماوں کو حراست میں لیا تھا۔ سابق وزیرِاعظم کو رہا کر دیا گیا ہے لیکن ان پر اب بھی کچھ پابندیاں ہیں۔
بغاوت کے بعد اپنی پہلی عوامی خطاب میں جنرل پرے یوتھ نے کہا کہ ’ فوجی حکومت کے پاس انتخابات کروانے کے لیے ایک سال اور تین مہینے کا وقت ہے۔‘
انھوں نے کہا: ’کیشدگی پر کافی وقت ضائع ہو چکا ہے۔‘
جنرل پرے یوتھ نے کہا کہ تین مہینوں پر محیط پہلے فیز میں نئی کابینہ کی تشکیل پر ’اتفاقِ رائے‘ قائم کیا جائے گا اور نئے آئین کا مسودہ تیار ہوگا، اس کے بعد ایک سال کے عرصے میں اصلاحات کیے جائیں گے اور اس کے بعد ہی انتخابات منعقد کیے جا سکیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں وقت دیں کہ آپ کے مسائل حل کر سکیں۔پھر فوجی واپس چلے جائیں گے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
جنرل پرے یوتھ نے اس سے پہلے خبردار کیا تھا کہ اگر احتجاج جاری رہا تو ان کے پاس طاقت کے استعمال کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوگا۔
انھوں نے اپنے خطاب میں دوبارہ خبردار کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج سے تھائی عوام کو ’خوشحال بنانے‘ کے عمل میں تاخیر ہوگی۔
علاوہ ازیں جمعے کو سینکڑوں فوجیوں نے ممکنہ احتجاج کو روکنے کے لیے بینکاک کے ایک مرکزی چوراہے کو شام کے رش کے اوقات میں بند کر دیا تھا۔
تھائی لینڈ میں وزیرِ اعظم ینگ لک شناوترا کو ہٹانے کے لیے چھ مہینوں تک جاری احتجاج اور سیاسی عدم استحکام کے بعد ملک کی فوج نے بغاوت کرکے حکومت کا تختہ الٹا دیا اور خود حکومت سنبھال لی۔







