تھائی لینڈ کی فوج ایک بار ملک مارشل لا نافذ کر دیا ہے
،تصویر کا کیپشنتھائی لینڈ کی فوج نے ایک بار پھر اقتدار پر قبضہ کر لیا ہے۔
،تصویر کا کیپشنیہ ایک عشرے میں دوسرا موقع ہے کہ فوج نے تھائی لینڈ کے اقتدار پر قبضہ جمایا ہے۔
،تصویر کا کیپشن2006 میں تھائی لینڈ کی فوج نے بیرون ملک دورے پرگئے ہوئے وزیر اعظم شناواترا کو بدعنوانی کے الزامات پر اقتدار سے الگ کر دیا تھا۔
،تصویر کا کیپشنتھائی لینڈ کی فوج نے کہا ہے کہ اس نے ملک میں سیاسی بحران کی وجہ سے مارشل نافذ کیا ہے۔
،تصویر کا کیپشنفوج کا کہنا ہے کہ مارشل کے نفاذ سے نگران حکومت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور وہ اقتدار میں رہے گی۔
،تصویر کا کیپشنتھائی لینڈ کے فوجیوں نے ملک کے تمام اہم مقامات کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔
،تصویر کا کیپشنتھائی لینڈ کی فوج نے1932 سے ملک میں بادشاہت کے خاتمے کے بعد اب تک 13 مرتبہ اقتدار پر قبضہ کیا ہے۔ تھائی جرنیلوں کا کہنا ہے 1914 کا ایک قانون انھیں مداخلت کی اجازت دیتا ہے۔
،تصویر کا کیپشن2006 میں تھاکسن شنواترا کو اقتدار سے علیحدہ کیے جانے کے بعد ملک میں سیاسی بحران کی کیفیت ہے۔ فوج نے شناواترا کو بدعنوانی کے الزام میں اس وقت اقتدار سے علیحدہ کیا جب وہ بیرون ملک دورے پر تھے۔
،تصویر کا کیپشنپچھلے چھ مہینوں سے ملک میں حکومت کے خلاف مظاہرے جاری ہیں۔
،تصویر کا کیپشنتھاکسن شناواترا کی بہن ینگ لک شناواترا کے حامیوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر اقتدار کسی غیر منتخب شخص کے حوالے کیا گیا تو ملک میں خانہ جنگ شروع ہو سکتی ہے۔
،تصویر کا کیپشنینگ لک شناواترا کےمخالفین کا کہنا ہے کہ ان کے بھائی تھاکسن شنواترا بیرون ملک بیٹھ کر حکومت کو کنٹرول کرتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنتھائی لینڈ کے عوام نے ملک میں مارشل لا کے نفاذ کو کوئی خاص ردعمل ظاہر نہیں کیا اور معمولات زندگی پہلے کی طرح رواں دواں رہے۔