تھائی لینڈ میں فوجی بغاوت کی عالمی مذمت

،تصویر کا ذریعہAP
امریکہ سمیت دنیا کے متعدد ممالک نے تھائی لینڈ میں فوجی بغاوت اور فوج کے حکومت سنبھالنے کی مذمت کی ہے۔
امریکی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ بغاوت کا کوئی جواز نہیں تھا اور امریکہ کی جانب سے دی جانے والی دس ارب ڈالر کی امداد کو روکا جا سکتا ہے۔
یاد رہے کہ منگل کے روز ملک میں فوج نے اہم سرکاری عمارتوں کا کنٹرول سنبھال کر مارشل لا نافذ کر دیا تھا۔ اس موقعے پر فوج کا کہنا تھا کہ ملک کی سکیورٹی کی ذمہ داریاں سنبھالنے کو بغاوت سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔
تاہم جمعرات کے روز فوج کے سربراہ نے ٹی وی پر اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ فوج نے حکومت سنبھال لی ہے۔
فرانس اور جرمنی نے بھی فوجی بغاوت کی مذمت کی ہے اور اقوام متحدہ نے اس اقدام پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
جمعرات کو فوج نے آئین کو معطل کر دیا، عوامی اجتماعات پر پابندی لگا دی اور سیاست دانوں کو حراست میں لے لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی ماہ کی کشیدگی کے بعد اب نظم و ضبط کی ضرورت ہے۔
ان کا موقف تھا کہ ملک میں حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان ایک عرصے سے جاری کشمکش اور سیاسی بحران کے بعد فوج نے مارشل لا نافذ کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہbbc
ملک کے عبوری وزیر اعظم کے چیف سکیورٹی ایڈوائزر کا کہنا تھا کہ فوج کے فیصلے کے بارے میں حکومت کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حکومت حامی مظاہرین کے رہنما جتوپورن پرومپان اور حزب مخالف کے رہنما سیتھیپ تھاؤسبان دونوں کو حراست میں رکھا گیا ہے۔
ملک کے عبوری وزیراعظم نیواتھام رونگ بونسانگفائیسان کے بارے میں ابھی تک معلومات نہیں مل سکی ہیں۔
تھائی لینڈ ایک عرصے سے سیاسی بحران کا شکار ہے۔ گذشتہ سال کے آخر میں اس وقت کی وزیراعظم ینگ لک شناواترا نے ایوانِ زیریں کو تحلیل کر دیا تھا۔ حزب اختلاف کی جماعتیں اقتدار ایک غیر منتخب انتظامیہ کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں تاکہ وہ ملک کا آئین ازسرنو مرتب کر سکے۔
کئی ماہ سے دارالحکومت کے متعدد علاقوں میں مظاہرے جاری ہیں۔
اس ماہ کے آغاز میں ایک عدالت نے اختیارات سے تجاوز کے الزام میں وزیراعظم شناواترا کو برطرف کر دیا تھا۔ یاد رہے کہ 2006 میں ان کے بھائی کو بھی فوج نے وزارتِ عظمیٰ کے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔







