عدالت نے تھائی وزیرِاعظم کو عہدے سے ہٹا دیا

،تصویر کا ذریعہ
تھائی لینڈ کی ایک عدالت نے حکم دیا ہے کہ ملک کی وزیراعظم ینگ لک شناواترا اپنے اختیارات کے غلط استعمال کی پاداش میں اپنا عہدہ چھوڑ دیں۔
آئینی عدالت نے بدھ کو دارالحکومت بنکاک میں فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ینگ لک شناواترا نے اپنے قومی سلامتی کے سربراہ کا تبادلہ کرتے ہوئے غیر قانونی طرزِ عمل اپنایا۔ اس عدالتی حکم پر عمل درآمد لازمی ہے۔
عدالت نے یہ بھی کہا کہ اس عمل میں کابینہ کے بعض وزرا بھی شامل تھے اور انھیں بھی اپنے عہدے سے دست بردار ہو جانا چاہیے۔
واضح رہے کہ یہ فیصلہ کئی ماہ سے جاری سیاسی تعطل کے بعد آیا ہے، جبکہ گذشتہ نومبر کے مہینے سے ہی وزیر اعظم ینگ لک کو ان کے عہدے سے ہٹانے کے لیے حکومت مخالف مظاہرے ہو رہے تھے۔
اب اس بات کے بہت امکانات ہیں کہ حکومت کے حامی اس فیصلے کے خلاف مظاہرہ کریں گے کیونکہ حکومت دیہی علاقوں میں بہت مقبول رہی ہے۔
ینگ لک پر غیر قانونی طریقے سے اپنے قومی سکیورٹی چیف تھاول پلنساری کے تبادلے کا الزام ہے۔ واضح رہے کہ تھاول پلنساری کی اس عہدے پر تقرری اب کی حزب اختلاف اور اس وقت کی حکومت نے سنہ 2011 میں کی تھی۔
منگل کو عدالت میں پیش ہو کر وزیر اعظم ینگ لک نے اس بات کی تردید کی تھی کہ ان کے تبادلے سے ان کی پارٹی کو کوئی فائدہ حاصل ہوا تھا۔ لیکن عدالت نے اس کے باوجود ان کے خلاف فیصلہ سنا دیا ہے۔
عدالت کے ایک جج نے ایک بیان میں کہا: ’وزیر اعظم کی حیثیت ختم ہو گئی ہے، ینگ لک اب فعال وزیراعظم کے عہدے پر نہیں رہ سکتی ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ابھی یہ واضح نہیں کہ آیا ینگ لک کی جگہ ان کا کوئی وزیر آئے گا یا پھر ملک میں سیاسی خلا پیدا ہو جائے گا۔
یاد رہے کہ حکومت مخالف مظاہرے گذشتہ سال تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک میں شروع ہوئے تھے اور مظاہرین نے شہر کے مختلف حصوں کو مسدود کر دیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty
اس کے جواب میں ینگ لک نے فروری میں عام انتخابات کا اعلان کر دیا تھا جس میں ان کی پارٹی کی جیت کا زیادہ امکان تھا۔ لیکن مظاہرین نے ان انتخابات میں رخنہ اندازی کی اور بعد میں انھیں منسوخ کر دیا گیا۔
وزیر اعظم ینگ لک کے حامیوں کا خیال ہے کہ عدالت ان کے خلاف متعصبانہ رویہ رکھتی ہے اور وہ شہری امرا کی حامی ہے جو ان مظاہروں کے روح و رواں ہیں۔
موجودہ وزیرِاعظم کے بھائی تھاکسین شیناوترا کو فوج نے 2006 میں معزول کر دیا تھا۔ بعض حلقے یہ رائے بھی رکھتے ہیں کہ اصل میں اس وقت بھی حکومت تھاکسین شیناوترا ہی چلا رہے ہیں۔ تھاکسین شیناوترا ان دنوں خود ساختہ جلا وطنی کاٹ رہے ہیں۔







