بنکاک:الیکشن بائیکاٹ کے بعد اپوزیشن کی عوامی ریلی

تھائی لینڈ میں اپوزیشن نے انتخابات کے بائیکاٹ کے اعلان کے بعد اب اتوار کو دارالحکومت بنکاک میں بڑے عوامی اجتماع کا اعلان کیا ہے۔
اپوزیشن کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس احتجاجی ریلی میں لاکھوں افراد کی شرکت متوقع ہے۔
تھائی لینڈ میں حزبِ اختلاف کی مرکزی جماعت ڈیموکریٹ پارٹی نے سنیچر کو اعلان کیا ہے کہ وہ حکومت کی جانب سے اعلان کردہ دو فروری کے انتخابات کا بائیکاٹ کرے گی۔
تھائی وزیراعظم ینگ لک شیناواترا نے حکومت مخالف مظاہروں کے بعد رواں ماہ کے آغاز میں انتخابات کے انعقاد کا اعلان کیا تھا۔
تھائی لینڈ میں 2010 کے بعد سے شدید سیاسی بحران جاری ہے۔ ینگ لک 2011 میں الیکشن جیت کر برسرِاقتدار آئی تھیں لیکن مظاہرین کا کہنا ہے کہ اصل حکومت ان کے بھائی اور معزول کیے گئے سابق وزیراعظم تھاکسین شیناواترا ہی چلا رہے ہیں۔

تھاکسین شیناواترا کی حکومت کو سنہ 2006 میں فوجی بغاوت میں ختم کر دیا گیا تھا اور ان پر بدعنوانی کے الزامات لگے تھے جس کے بعد سے وہ خود ساختہ جلا وطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔
تھائی لینڈ کے اخبار بنکاک پوسٹ کے مطابق مظاہرین کے رہنما سوتھپ تھاگسوبان نے امید ظاہر کی ہے کہ اتوار کو ہونے والے مظاہرے سے موجودہ حکومت پر دباؤ میں اضافہ ہوگا۔
بی بی سی کے جوناتھن ہیڈ کا کہنا ہے کہ مظاہرین نے احتجاج کے لیے شہر کے پانچ مرکزی چوراہوں پر سٹیج بنا لیے ہیں جس سے ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو جائے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تھائی فوج کے سربراہ نے بھی سنیچر کو کہا ہے کہ ملک میں موجود سیاسی تقسیم خانہ جنگی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔
اس سے قبل سنیچر کو ہی ڈیموکریٹ پارٹی کے رہنما ابھیست وجے جیوا نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ ’تھائی لینڈ کی سیاست ناکام ہو چکی ہے‘ اس لیے وہ اپنا کوئی بھی امیداوار انتخابات کے لیے کھڑا نہیں کریں گے۔
ابھیست وجے جیوا نے نیوز کانفرنس میں کہا کہ ان کی جماعت میں اس بات پر اتفاق ہوا ہے کہ ان انتخابات کی ناکامی کے لیے وہ کوئی بھی امیدوار میدان میں نہیں لائیں گے۔
انہوں نے کہا‘ تھائی لینڈ کے عوام جمہوری نظام پر اپنا یقین کھو چکے ہیں‘۔
تھائی لینڈ کی وزیرِ اعظم نے نو دسمبر کو ملک کی پارلیمان تحلیل کرکے نئے انتخابات کا اعلان کیا تھا۔ ایسا کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ وہ سڑکوں پر تشدد کا خاتمہ چاہتی ہیں اور طاقت ایک مرتبہ پھر ملک کے عوام کے ہاتھ سونپنا چاہتی ہیں۔
ان کی پارلیمان میں اکثریت ہے اور انہیں تھائی لینڈ کی دیہی علاقوں میں واضح حمایت حاصل ہے۔ اور ایسا خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ فروری کے انتخابات جیت سکتی ہیں۔
اس سے قبل ینگ لک شیناواترا نے حکومت مخالف مظاہرین کی جانب سے فروری میں قبل از وقت انتخابات سے قبل مستعفی ہونے کا مطالبہ مسترد کر دیا تھا۔
یہ مظاہرین ینگ لک شیناواترا سے استعفیٰ دینے اور اقتدار ’عوام کے وزیراعظم‘ کو سونپنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے آئین کے مطابق نگراں وزیراعظم کی ذمہ داریاں نبھانی ہیں۔ میں جہاں تک ہو سکا پیچھے ہٹ گئی ہوں۔ اب مجھے کچھ موقع دیں۔‘
تاہم مظاہرین کے رہنما سوتھپ تھاگسوبان نے کہا ہے کہ ’ہماری تحریک جاری رہے گی۔ ہم عوام کے وزیراعظم کو چنیں گے اور عوامی حکومت اور پارلیمان قائم کریں گے۔‘







