بینکاک میں مظاہرین نے شہر بند کرنا شروع کر دیا

 حکام نے صورتِ حال پر قابو پانے کے لیے 18 ہزار سیکورٹی اہل کار تعینات کیے ہیں
،تصویر کا کیپشن حکام نے صورتِ حال پر قابو پانے کے لیے 18 ہزار سیکورٹی اہل کار تعینات کیے ہیں

تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک میں مظاہرین نے شہر کو مکمل طور پر بند کرنے کے لیے متعدد شاہراہوں پر رکاوٹیں لگانا شروع کر دی ہیں۔

مظاہرین کی کوشش ہے کہ دو فروری کو ہونے والے انتخابات سے پہلے ہی موجودہ حکومت مستعفی ہو جائے۔

حکومت مخالف مظاہرین اہم چوکوں پر رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں۔

حکام نے صورتِ حال پر قابو پانے کے لیے 18 ہزار سیکورٹی اہل کار تعینات کیے ہیں۔

نومبر میں شروع ہونے والی اس حکومت مخالف مہم کا مطالبہ ہے کہ وزیراعظم ینگ لک شیناوترا کی حکومت ہٹا کر ایک عوامی کونسل کو انتخابات تک کے لیے اقتدار سونپ دیا جائے۔

مخالفین کا کہنا ہے کہ وزیراعظم ینگ لک شیناوترا کی حکومت اصل میں 2006 میں فوج کی جانب سے معزول کیے گئے سابق وزیراعظم اور موجودہ وزیرِاعظم کے بھائی تھاکسین شیناوترا ہی چلا رہے ہیں۔ تھاکسین شیناوترا اس وقت خود ساختہ جلا وطنی کاٹ رہے ہیں۔

مخالفین کا یہ بھی کہنا ہے کہ تھاکسین شیناوترا اور ان کی حامی جماعتوں کی پالیسیوں کی وجہ سے ملک میں جعلی جمہوریت ہے۔ تھاکسین شیناوترا اور ان کی حامی جماعتیں گذشتہ چار انتخابات میں کامیاب رہی ہیں اور ملک کے دیہی علاقوں میں بہت مقبول ہیں۔

ملک کی حزبِ اختلاف کی مرکزی جماعت اب دو فروری کے انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کر رہی ہے۔ گذشتہ سال شروع ہونے والی اس حکومت مخالف مہم میں فسادات کے دوران کم از کم آٹھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ صرف اتوار کے روز ہی سات مظاہرین اس وقت زخمی ہو گئے جب نامعلوم افراد نے ایک جلوس پر فائرنگ کی۔

حکام کا کہنا ہے کہ اتوار کی شب نامعلوم افراد کی فائرنگ سے کم از کم ایک شخص ہلاک ہوا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ ایک نامعلوم شخص نے حزبِ اختلاف کی مرکزی جماعت کے صدر دفتر پر بھی فائرنگ کی تاہم اس واقعے میں کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔

پیر کی صبح مظاہروں میں ہزاروں افراد کی شرکت کی اطلاع ہے اور ان کا مطالبہ ہے کہ وہ دارالحکومت کو مکمل طور پر بند کر دیں گے۔

پیر کی صبح مظاہروں میں ہزاروں افراد کی شرکت کی اطلاع ہے
،تصویر کا کیپشنپیر کی صبح مظاہروں میں ہزاروں افراد کی شرکت کی اطلاع ہے

بینکاک سے بی بی سی کے نامہ نگار جانتھن ہیڈ کا کہنا ہے کہ شہر کے سات مرکزی چوکوں پر ریت کی بوریاں رکھ کر سڑکیں بند کر دی گئی ہیں اور متعدد سٹیج بنائے گئے ہیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ وہ چاہتی ہے کہ اس بندش کے دوران معمولِ زندگی برقرار رہے۔ اسی حکومت نے شہر میں چلنے والی ٹرینیوں میں اضافہ بھی کیا ہے۔

مظاہرین کے پلان کے مطابق وہ حکومت کی اہم وزارتوں کا گھیراؤ کریں گے اور ان عمارتوں کو بجلی کی فراہمی روک دیں گے تاہم وزارتیں کام نہ جاری رکھ سکیں۔

شہر میں تقریباً 150 سکولوں کو بند کرنے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ کئی روز تک ان مقامات پر رہیں گے، تاہم انہوں نے کہا ہے کہ وہ شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ اور ہوائی اڈوں کو متاثر نہیں کریں گے۔

ملک میں حکومت مخالف مظاہرین کے رہنما اور حزبِ اختلاف کی ایک جماعت کے سابق رہنما سوتھپ تھاگسوبن نے ان مظاہروں کو عوامی انقلاب قرار دیا ہے۔ پیر کے روز انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ مظاہرین کی نظر میں ینگ لک شیناوترا اب وزیراعظم نہیں رہیں۔