یہودیوں کی مخالفت میں ایرانی سب سے پیچھے

،تصویر کا ذریعہ
- مصنف, حسین باستانی
- عہدہ, بی بی سی فارسی
مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں یہود مخالفت کے بارے میں ایک عالمی تنظیم کے حالیہ جائزے سے یہ نتیجہ سامنے آیا ہے کہ یہود مخالفت میں ایرانی سب سے پیچھے ہیں۔ اس نتیجے کو عام تصور کے برخلاف اور حیران کن تصور کیا جا رہا ہے۔
اینٹی ڈیفیمیشن لیگ (اے ڈی ایل) یا ہتکِ عزت مخالف لیگ نامی تنظیم کے اس جائزے کے مطابق صرف 56 فیصدایرانی یہودیوں کے خلاف رائے رکھتے ہیں جب کہ ترکی میں اس رائے کاتناسب 69 فیصد اور فلسطینی علاقوں میں 93 فیصد ہے۔
سرکاری طور پر قدامت پرست ایران خود کو یہودی مخالف قرار دینے کی بجائے اسرائیل مخالف کہتا ہے۔ اگرچہ ایران کے بیشتر ادارے جو ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے ساتھیوں کے ماتحت ہیں، یہودی مخالف پروپیگنڈا کرتے رہتے ہیں۔
مثال کے طور پر ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن اور ذرائع ابلاغ کے دوسرے روایت پسند ادارے مرگِ انبوہ یا ہولوکوسٹ کو گھٹا کر ہی پیش کرتے ہیں، دنیا کو درپیش بیشتر مسائل کا ذمے دار ’بااثر‘ یہودیوں کو قرار دیتے ہیں اور ان کی ایسی تصویر پیش کرتے ہیں جو یہود مخالفت پر مبنی ہوتی ہے۔
ایران کے موجودہ صدر حسن روحانی کے پیش رو محمد احمدی نژاد مرگ انبوہ کو اسرائیل کے خلاف سیاسی حربے کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ وہ اسرائیل کو ایران کا سب سے بڑا دشمن قرار دیتے تھے اور کہتے تھے کہ اسرائیل ایران کو عالمی ہمدردیاں بٹورنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔
دوسری جنگِ عظیم کے دوران نازیوں کے ہاتھوں 60 لاکھ یہودیوں کو ہلاک کیا گیا، اسی بنا پر اسے ہولوکاسٹ یا مرگِ انبوہ کہا جاتا ہے۔
چھ مئی کو ایران میں سخت گیر موقف رکھنے والے ارکانِ پارلیمنٹ نے ایرانی وزیرِ خارجہ جاوید ظریف کو اس بنا پر کڑی تنقید کا نشانہ بنایا کہ انھوں نے جرمنی کے ایک ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے مرگ انبوہ کو ایک ’سانحہ‘ قرار دیا تھا۔
اس کے علاوہ سخت گیر موقف رکھنے والوں پر تنقید کرنے والے ایرانیوں کی بھی کسی وجہ سے اسرائیلی حکومت کے بارے میں رائے منفی ہی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مثال کے طور پر وہ فلسطینیوں اور ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں اسرائیلی پالیسیوں سے اختلاف کرتے ہیں۔
ایرانی نوجوان جو ایرانی سخت گیروں کے حامی نہیں ہیں گذشتہ سال اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو کے اُس تبصرے کا مذاق اڑانے میں پیچھے نہیں رہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ایرانیوں کو جین پہننے یا مغربی موسیقی سننے کی اجازت نہیں۔
ایرانی نوجوانوں نے سوشل میڈیا پر جین میں اپنی تصویریں لگائیں اور نتن یاہو کے بارے میں کہا کہ وہ ایسے معاملے پر بھی تبصرے کرتے ہیں جس کے بارے میں انھیں کچھ معلوم نہیں ہے۔
ان تمام باتوں کے باوجود اے ڈی ایل کا جائزہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ایرانی آبادی کا بڑا حصہ ایرانی سخت گیر قیادت کے ان منفی خیالات سے متاثر نہیں ہے جو وہ یہودیوں کے بارے میں رکھتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہ
اس کا ایک نتیجہ یہ بھی نکالا جا سکتا ہے کہ سخت گیر موقف رکھنے والے حکمرانوں پر اعتماد نہ رکھنے کی وجہ سے ایران کی مذکورہ تعداد یہودیوں کے بارے میں ان کے خیالات سمیت ان کی ہر بات کو ناپسند کرتی ہے۔
لیکن ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ ایرانیوں نے بہت کم شرح میں اس بیان سے اتفاق کیا ہے کہ ’یہودیوں کے ساتھ مرگِ انبوہ میں جو کچھ ہوا، وہ اب بھی اس کے بارے میں بہت زیادہ بات کرتے ہیں۔‘
اسلامی جمہوریہ ایران میں جہاں برسرِ اقتدار طبقہ ایک عرصہ سے مرگِ انبوہ کی تردید کر رہا ہے، وہیں صرف 18 ایرانی اس بیان سے اتفاق کرتے ہیں۔
یہ عدد اس صورت میں اور بھی اہم ہو جاتا ہے جب اسے مذکورہ بیان سے اتفاق کرنے والے 22 فیصد امریکیوں سے ملا کر دیکھا جاتا ہے۔







