زنجیروں میں جکڑی یہودی عورتیں

سوشانہ کا شوہر وہ مذہبی دستاویز دینے سے انکاری ہے جس سے شادی کا معاہدہ ختم ہو سکتا ہے
،تصویر کا کیپشنسوشانہ کا شوہر وہ مذہبی دستاویز دینے سے انکاری ہے جس سے شادی کا معاہدہ ختم ہو سکتا ہے

ایک اندازے کے مطابق یہودی معاشرے میں ہزاروں ایسی عورتیں ہیں جن کی شادی مشکلات کا شکار ہے لیکن شوہر کی طرف سےطلاق دینے کے انکار کی وجہ سے وہ اپنی زندگی تنہائی میں گزارنے پر مجبور ہیں۔

بعض اوقات ان کو اس تکلیف دہ صورتحال سے نکلنے میں برسوں بیت جاتے ہیں۔

شوشانہ بھی ایسی ہی صورتحال سے دوچار ہیں۔ شوشانہ کے تین بچے ہیں اور وہ پندرہ سال سے اپنے شوہر سے علیحدہ ہو چکی ہیں، لیکن ان کا شوہر وہ مذہبی دستاویز دینے سےانکاری ہے جس سے دونوں کی شادی کا معاہدہ ختم ہو سکے۔

سوشانہ نہ تو بیوہ ہے اور نہ ہی طلاق یافتہ۔ یہودی معاشرے میں ایسی عورتوں کو’اگونا‘ یا ’رنجیروں میں جکڑی عورتیں‘ کہا جاتا ہے۔ ایسی عورتوں چاہتے ہوئے بھی شوہر کی مرضی کے بغیر شادی کے معاہدے سے باہر نہیں آ پاتیں۔

یہودی مذہب میں عورت کو شادی کے معاہدے سے نکلنے کے لیے خاوند سے ایسی دستاویز چاہیے ہوتی ہے جس کے بغیر شادی کا معاہدہ ختم نہیں ہو سکتا۔

شوشانہ اسرائیل میں رہائش پذیر ہیں جبکہ ان کا شوہر امریکہ میں رہتا ہے۔ اسرائیل کی یہودی عدالت کی طرف سے شوشانہ کے شوہر کو حکم دیا جا چکا ہے کہ وہ اس شادی کو ختم کرنے کے لیے ضروری دستاویز جاری کرے لیکن وہ یہودی عدالت کا حکم ماننے سے گریز کر رہا ہے۔

شوشانہ پندرہ برس سے طلاق لینے کی کوشش کر رہی ہے
،تصویر کا کیپشنشوشانہ پندرہ برس سے طلاق لینے کی کوشش کر رہی ہے

ایک راسخ القیدہ یہودی ہونے کے ناطے شوشانہ نہ تو کسی مرد سے میل جول رکھ سکتی ہے اور نہ شادی کر سکتی ہے۔

وہ کہتی ہے کہ کسی یہودی عورت کو اگر اس کا شوہر طلاق دینے سے انکار کر دے تو وہ یرغمال بن جاتی ہے۔’یہ ایک بدترین قسم کا جذباتی جبر ہے اور آپ قید تنہائی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔‘

شوشانہ اب 43 برس کی ہو چکی ہیں۔ طلاق کے اس جھگڑے میں پندرہ برس بیت چکے ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’جب میں جوان تھی تو میں نے دوسری شادی کا سوچا تھا لیکن اب تو شاید وہ وقت ہی گزر چکا ہے۔‘

شوشانہ کا شوہرایرن امریکہ میں رہائش پذیر ہے۔ ایرن نے ای میل کے ذریعے اپنا موقف بتاتے ہوئے کہا کہ ان کے مابین بچوں کی حفاظت اور ان سے ملاقات کے معاملے پر تنازعہ جاری ہے جس کی وجہ سے وہ طلاق کے لیے ضروری دستاویز جاری کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔

ایرن نے کہا کہ شوشانہ کسی ایسے طلاق کے معاہدے پر راضی نہیں ہے جس کے تحت باپ بچوں سے ملاقات کا حق رکھتا ہو۔ ایرن کا کہنا ہے کہ اگر شوشانہ نے میرے اور میرے بچوں کے بیچ دیوار نہ کھڑی کر رکھی ہوتی تو اب تک طلاق کا معاملہ حل ہو چکا ہوتا۔

یہودی مذہب میں مرد اور عورت دونوں کو حق حاصل ہے کہ وہ شادی کو ختم کرنے سے انکار کر سکتے لیکن پورے اسرائیل میں صرف ایک یا دو ایسے مرد ہیں جو طلاق کے لیے بیوی کی رضامندی کے منتظر ہیں جبکہ ایسی عورتوں کی تعداد سو سے زیادہ ہے۔

رابی میمان کہتے ہیں کہ یہودی قانون کے تحت شادی دونوں افراد کی مرضی سے ہوتی ہے لہذا اس کا خاتمہ بھی دونوں کی مرضی سے ہی ہونا چاہیے۔ ’یہ ایک مقدس رشتہ ہے۔ جب آپ اس کا خاتمہ چاہتے ہیں تو وہ بھی اچھے انداز میں ہونا چاہے۔‘

پرانے زمانے میں اگونا ایسی خاتوں کو کہا جاتا تھا جس کا شوہر کسی جنگ میں جاتا تھا اور پھر واپس نہیں آتا تھا اور اس کے بارے میں یہ بھی معلوم نہیں ہوتا تھا کہ وہ زندہ ہے یا مرچکا ہے۔ ایسی عورتیں دوسری شادی نہیں کر سکتی تھیں۔

شوشانہ کو یقین نہیں ہے کہ وہ دوبارہ شادی کر سکے گی لیکن اسے امید ہے کہ ایک وقت آئے گا جب وہ کم از کم آزاد تو ہوجائے گی اور اپنے فیصلے خود کر سکے گی۔