امریکیوں کو بھولنے کی بڑی بری عادت ہے!

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, برجیش اپادھیائے
- عہدہ, بی بی سی اردو، واشنگٹن
اب ایک صاحب امریکی تفتیشی ایجنسی ایف بی آئی کے ایجنٹ ہیں۔ دورے پر پاکستان گئے، کس ارادے سے یہ توانھیں کو معلوم لیکن فلائٹ پر بندوق کی گولیاں لے کر سوار ہونے لگے۔
پولیس نے پکڑا تو کہنے لگے بھول گیا تھا کہ میرے بیگ میں گولیاں رکھی ہوئی ہیں۔ ان جناب کا تعلق اس محکمے سے ہے جو امریکہ میں کسی کو بھی ہومیوپیتھی کی گولیوں کے متعلق بھی اگر بات کرتے ہوئے سن لیں تو ان کے کان کھڑے ہو جاتے ہیں۔
جب بھولنے کی بات آتی ہے تو امریکہ اپنے اور غیر میں بھی کوئی فرق نہیں کرتا۔ اب جنرل پرویز مشرف کو دیکھ لیں۔ یہاں آتے تھے تو لگتا تھا کہ امریکہ کا ان سے بڑا کوئی دوست نہیں۔ اب ستارے گردش میں ہیں، ملک کے خلاف غداری کا مقدمہ چل رہا ہے تو امریکہ سے کوئی ان کی کوئی خبر بھی نہیں لے رہا۔
ان کی تعریف کے پل باندھنے والوں میں سے کچھ لوگوں سے میں نے وقت مانگا کہ شاید ان کے متعلق وہ کچھ کہنا چاہیں گے۔ سوچا میری خبر بن جائے گی اور جنرل صاحب کو بھی تھوڑا سکون ملےگا۔ لیکن سب نے دامن بچا لیا۔
جارج ڈبليو بش نے انھیں تھوڑا بہت یاد بھی رکھا، ان کی پینٹنگ بنائی لیکن بال پورے سفید کر دیے۔ تھوڑا سا اگر سیاہ رنگ کا استعمال کر لیتے تو کمانڈو اتنا بوڑھا نہیں نظر آتا۔ بش بھی بھول گئے ہوں گے کہ بڑی مشقت سے مشرف صاحب کی کنپٹیوں کے اوپر تھوڑی سی سفیدي چھوڑی جاتی تھی تاکہ عمر کا بس رعب بھر نظر آئے۔
لیکن یہ سب تو چھوٹی موٹی باتیں ہیں۔ مجھے تو ایسا لگ رہا ہے جیسے امریکہ یہ بھی بھول گیا ہے کہ وائٹ ہاؤس میں ان دنوں کون رہتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP
ڈھائی برس باقی ہیں اوباما جي کے، ابھی لیکن ٹی وی چینلز پر کئی بار ڈھونڈنے سے بھی نہیں نظر آتے۔ بڑی جدوجہد کے بعد تو وائٹ ہاؤس کی کرسی ملی تھی، امریکیوں کو اوباما کہنے کی عادت ڈالی تھی کیونکہ وہ تو بس اسامہ، اسامہ کی رٹ لگائے رہتے تھے۔ لیکن کوئی پوچھ ہی نہیں رہا اور بال ہیں سفید ہوتے جا رہے ہیں۔
امریکہ میں وسط مدتی انتخابات ہو رہے ہیں۔ لیکن خبر یہ بھی سننے کو مل رہی ہے کہ کئی ایک سینیٹر نہیں چاہتے کہ اوباما ان کے لیے انتخابی مہم چلائیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بس بھلا ہو تو فوکس نیوز کا کہ وہ بیچارے اصولوں کے مطابق مندر کے گھنٹے کی طرح بجتے رہتے ہیں، اوباما کو مسلمان قرار دینے کی بحث میں مستقل لگے رہتے ہیں۔
گوگل نیوز پر بھی ٹرینڈ کرنے والے ناموں کی فہرست میں نریندر مودی نظر آتے ہیں، کم كاردشيان نظر آتی ہیں اور گذشتہ تین چار روز سے مونیکا لیونسكي نظر آنے لگی ہیں۔ اوباما کا کہیں پتہ نہیں۔
مونیکا لیونسكي سے یاد آیا کہ وہ ایک بار پھر سے منہ کھول بیٹھی ہیں۔ کہہ رہی ہیں پہلی بار وہ خاموشی توڑ رہی ہیں کیونکہ وہ اب اس داغدار بلیو ڈریس ( نیلے لباس) کو ہمیشہ کہ لیے دبا دینا چاہتی ہیں۔ لیکن جہاں تک مجھے یاد ہے ’مونكاز سٹوری‘ کے نام سے ان پر لکھی پوری کتاب آچکی ہے جس میں انھوں نے ایک 21 سال کی انٹرن اور دنیا کے سب سے طاقتور انسان کے درمیان عشق کی مکمل تفصیلات پیش کی ہیں۔ بل کلنٹن کی طرح شاید انھیں بھی بھولنے کی بیماری لگ گئی ہے کیونکہ كلنٹن جي تو مونیکا کا نام 1998 میں ہی بھول گئے تھے جب ایک پریس كانفرنس میں انھوں نے کہا ’میرا اس خاتون‘ کے ساتھ کوئی جسمانی رشتہ نہیں تھا۔ اور جس سرد مہری سے انھوں نے یہ بات کہی تھی اس سے ریگستان میں بھی دو انچ برف جم گئی ہوگی۔
امریکہ بھی مونیکا لیونسکی کو بھول گیا تھا لیکن آكاشواني کے بھولے بسرے گیت کی طرح پرانے ریکارڈ پھر سے بجنے لگے ہیں۔ برساتی مینڈک کی طرح وہی آوازیں پھر سے سنائی دینے لگی ہیں جس میں ایک طبقہ بل کلنٹن کو ویلن کہتا ہے دوسرا مونیکا کو لوذ کیریکٹر۔

،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES
دراصل ان دنوں اوباما سے زیادہ تذکرے ہلیری کلنٹن کے رہتے ہیں۔ رپبلكنز کے حملوں کا نشانہ بھی وہی بن رہی ہیں۔ بش کے نائب صدر رہ چکے ڈک چینی کی بیوی نے کہا ہے کہ مونیکا لیونسکی نے ہو سکتا ہے ہلیری کے کہنے پر ہی دوبارہ منہ کھولا ہے تاکہ جب انتخابات کی گرمی تیز ہو تو اس معاملے پر حزب مخالف کا منہ بند ہو چکا ہو۔
انتخابات سے مودي جي یاد آ گئے۔
ان کے معاملے میں بھی امریکہ سب کچھ بھول گیا ہے۔ جن وجوہات سے امریکہ کو اب تک ان کو ویزا دینے سے انکار کرتا رہا ہے، وہ ساری باتیں بھول گیا ہے۔ اب تو مودی کو کرسی ملتے ہی امریکہ سے آواز جائے گی، میرے دیش بھی براہ کرم تشریف لائے۔ اور اگر کرسی نہیں ملی تو پھر کچھ پرانی باتیں یاد بھی آ سکتی ہیں۔
اور ہاں اگر آپ افغانستان یا پاکستان میں رہتے ہوں اور لگ رہا ہو کہ امریکہ کو آپ کو بھی بھول جائےگا تو آپ کا ڈر جائز ہے۔ پولیو کی طرح اس بیماری کا بھی کوئی علاج نہیں ہے۔
لیکن بالی وڈ کی فلموں میں جب ياداشت چلی جاتی ہے تو ڈاکٹر کہتا ہے، بیٹے یہ سب کچھ بھول گئے ہیں تاہم کبھی کبھی کسی اچانک لگنے والے بڑے جھٹکوں کے بعد پھر سے سب کچھ یاد آ سکتا ہے۔







