واشنگٹن پوسٹ اور گارڈیئن پیولٹزر پرائز کے فاتح

،تصویر کا ذریعہReuters
اخبار دی گارڈیئن یو ایس اور امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کو مشترکہ طور پر 2014 کا رپورٹنگ کے لیے پیولٹزر پرائز دیا گیا ہے۔ یہ اعزاز انھیں امریکی حکومت کی جانب سے الیکٹرانک نگرانی کے پروگرام کے بارے میں خبریں دینے کے لیے دیا گیا ہے۔
یہ خبریں سابق این ایس اے اہلکار ایڈورڈ سنوڈن کی جانب سے افشا کیے گئے خفیہ دستاویزات پر مبنی تھیں۔
امریکی صحافت کی کیٹیگری میں بہترین بریکنگ نیوز کے لیے باسٹن گلوب کامیاب رہا ہے۔
بین الاقوامی رپورٹنگ کے لیے خبر رساں ادارے روئٹرز کے دو نامہ نگاروں کو فتح حاصل ہوئی ہے۔
یاد رہے کہ پیولٹزر پرائز صحافت کی دنیا میں معروف ترین اعزاز ہے اور ہر سال کولمبیا یونیورسٹی کے جرنلزم سکول کی جانب سے دیا جاتا ہے۔
پیولٹزر کمیٹی کا کہنا تھا کہ اخبار دی گارڈیئن یو ایس اور امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے اپنی ’حارحانہ رپورٹنگ‘ کے ذریعے سکیورٹی اور پرائیویسی کے حوالے حکومت اور شہریوں کے درمیان رشتے کے بارے میں بحث کو جنم دیا۔

،تصویر کا ذریعہAP
ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن پوسٹ کی کہانیوں میں انتہائی معلوماتی تجزیہ شامل تھا جس کی مدد سے عوام اس بات کو سمجھ سکے کہ افشا کی گئی ان خفیہ معلومات کا قومی سلامتی سے کیا تعلق ہے۔
ادھر ایڈورڈ سنوڈن نے اس موقعے پر کہا کہ یہ اعزاز ان سب کے لیے جیت ہے جن کا ماننا ہے کہ حکومت چلانے میں عوام کا کردار ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یاد رہے کہ 30 سالہ ایڈورڈ سنوڈن کو روس میں عبوری پناہ دی گئی ہے۔ ایڈورڈ سنوڈن نے امریکہ کے خفیہ ادارے نیشنل سکیورٹی ایجنسی کے راز افشا کیے تھے جن میں بتایا گیا تھا کہ ایجنسی بڑے پیمانے پر امریکہ اور دنیا کے مختلف ممالک میں فون اور انٹرنیٹ کے ذریعے لوگوں کی غیر قانونی نگرانی کرتی ہے۔
ان معلومات کے منظرِ عام پر آنے کے بعد امریکہ میں بحث شروع ہوگئی تھی کہ این ایس اے کی جانب سے سکیورٹی اور قومی سلامتی کے نام پر اپنے اختیارات سے تجاوز کرنا کس قدر جائز ہے۔







