شامی ہیکرز کا امریکی ویب سائٹوں پر حملہ

حالیہ دنوں میں واشنگٹن پوسٹ کی ویب سائٹ کو کئی بار نشانہ بنایا گیا ہے
،تصویر کا کیپشنحالیہ دنوں میں واشنگٹن پوسٹ کی ویب سائٹ کو کئی بار نشانہ بنایا گیا ہے

شام کے صدر بشار الاسد کے حامیوں نے معرف امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ، سی این این اور ٹائم میگزین کی ویب سائٹوں کو نشانہ بنایا ہے۔

ان ویب سائٹوں کے بعض لنکس پر کلک کرنے سے صارفین ’سیرین الیکٹرونک آرمی‘ ( ایس ای اے) کی بعض ویب سائٹز پر پہنچ گئے۔

ان امریکی ویب سائٹوں کو جو کمپنی اپنے لنکس فراہم کرتی ہے اس کی سکیورٹی کی ناکامی کے سبب انہیں نشانہ بنایا جا سکا اور میڈیا کی یہ ویب سائٹ براہِ راست متاثر نہیں ہوئیں۔

حالیہ مہینوں میں ایس ای اے نے کئی میڈیا کمپنیوں کو نشانہ بنایا ہے اور اکثر اوقات میں اس نے ان کے سوشل میڈیا کے اکاؤنٹس کو نشانہ بنایا گیا۔

لیکن اس بار یہ گروپ میڈیا کی ان سائٹوں کے صفحات پر دستیاب لنکس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر کے ایک قدم اور آگے بڑھ گيا ہے۔

ہیکنگ کا پتہ چلنے کے فوراً بعد ان لنکس کو چلانے والی نیو یارک کی کمپنی آؤٹ برین نے اپنے بلاگ میں لکھا: ’ہمیں معلوم ہے کہ آج آؤٹ برین کو ہیک کیا گيا ہے اور اس کا پتہ چلتے ہی ہم نے سروسز ختم کر دی تھیں۔‘

اس کے سات گھنٹے بعد ’آؤٹ برین‘ نے اپنی سروسز دوبارہ بحال کیں۔

سی این این نے بی بی سی کو بتایا: ’سی این این ڈاٹ کام پر ظاہر ہونے والے ایک پلگ اِن کی سکیورٹی کے ساتھ تھوڑی دیر کے لیے متاثر ہوئی۔‘

لیکن ویب سائٹ نے کہا کہ ’اس مسئلے کو فوری طور پر حل کر لیا گيا اور سی این این ڈاٹ کام اور سی این این آئی ڈاٹ کام کے ساتھ براہِ راست چھیڑ چھاڑ نہیں ہوئی۔‘

واشنگٹن پوسٹ کے مینیجنگ ڈائریکٹر ایمیلیو گریشیا نے بعد میں کہا کہ سیرین الیکٹرونک آرمی کی جانب سے یہ ایسا پہلا حملہ نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ کچھ روز پہلے بھی سیرین الیکٹرونک آرمی نے مبینہ طور پر پاس ورڈ سے متعلق معلومات کے لیے واشنگٹن پوسٹ کے نیوز روم کے ملازمین کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس کے نتیجے میں پوسٹ کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے مضامین سیرین الیکٹرونک آرمی کی سائٹ پر پہنچ جاتے:

’سیرین الیکٹرونک آرمی نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ہمارے ایک تجارتی شراکت دار آؤٹ برین کی سائٹ کو ہیک کرکے ہماری سائٹ کے مواد تک رسائی حاصل کر لی ہے۔‘

انٹرنیٹ کی سکیورٹی کے ماہرین نے اس طرح کی ہیکنگ کو خطرناک بتایا ہے اور کہا ہے اسی طرح کی حرکتوں سے وائرس پھیلانے کا بھی کام لیا جاتا ہے۔